بارشوں سے کھلے آسمان تلے پڑی گندم خراب ہونے کا خدشہ

ملتان ڈویژن میں 48لاکھ، بہاولپور31لاکھ اورڈیرہ غازیخان میں25 لاکھ بوری پڑی ہے


Numainda Express August 18, 2013
ملتان ڈویژن میں 48 لاکھ، بہاولپور میں 31 لاکھ جبکہ ڈی جی خان ڈویژن میں 25 لاکھ بوری گندم کے کھلے گودام مون سون کی بارشوں کی زد میں ہیں. فوٹو: فائل

مون سون کی بارشوں و دیگر موسمی حالات کی وجہ سے ملتان ڈویژن سمیت جنوبی پنجاب میں اوپن گنجیوں پر پڑی ہوئی گندم خراب ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

ملتان ڈویژن میں 48 لاکھ، بہاولپور میں 31 لاکھ جبکہ ڈی جی خان ڈویژن میں 25 لاکھ بوری گندم کے کھلے گودام مون سون کی بارشوں کی زد میں ہیں، ان میں سے زیادہ تر گودام محکمہ خوراک کی طرف سے دی گئی ہدایات کے مطابق مناسب طور پر محفوظ نہیں کیے گئے ہیں۔



پالیسی کے مطابق یہ گودام نشیبی علاقوں سے باہر، زمین سے کم از کم 1 فٹ اونچے مضبوط تھڑوں پر اے کوالٹی بار دانوں میں رکھنے کی ہدایت ہے، تھڑے کا سائز 26x56 ہونا چاہیے جس پر لمبائی چوڑائی کے مقررہ فارمولے کے تحت 3603 بوریاں ہونی چاہئیں، گندم کو کیڑوں مکوڑوں، سسری، پھپھوندی، پانی، طوفان، گرد، آندھیوں و دیگر موسمی حالات سے بچانے کیلیے مقررہ معیار کے مطابق انتظامات نہ ہونے سے کھلے گوداموں میں پڑی ہوئی ہزاروں من گندم خراب ہونے لگی ہے۔