بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں

ملک بھر میں موسلادھار بارشوں اور دریاؤں میں آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سیلابی پانی سے ہزاروں...


Editorial August 18, 2013
متاثرہ علاقوں میں 20 ریلیف کیمپ بھی قائم کر دیئے گئے ہیں، ڈی جی پنجاب ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی فوٹو: فائل

ملک بھر میں موسلادھار بارشوں اور دریاؤں میں آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سیلابی پانی سے ہزاروں دیہات متاثر ہوئے ہیں جب کہ بارشوں سے شہروں اور دیہات میں چھتیں اور مکانات وغیرہ گرنے سے متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ بارشوں اور سیلاب کا زیادہ زور پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ہے۔ پنجاب کے دارالحکومت لاہور اور دیگر شہروں میں کئی روز سے مسلسل بارش جاری ہے جس سے شہری زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ادھر دریائے سندھ، چناب اور ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب ہے جب کہ بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے باعث دریائے راوی میں بھی پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے۔

سیلاب کے باعث پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں میں لاکھوں ایکڑ اراضی متاثر ہوئی ہے اور کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ ملتان میں سیلابی پانی داخل ہو گیا ہے۔ رحیم یار خان اور ڈیرہ غازی خان میں بھی سیلابی پانی خاصا نقصان کر رہا ہے۔ ادھر جھنگ میں بھی صورت حال خاصی گھمبیر ہے اور سیلاب کی تباہ کاری جاری ہے۔ سیالکوٹ اور نارووال میں بھی سیلابی پانی نے خاصا نقصان کیا ہے۔ دریائے سندھ کا پانی کچے کے علاقے میں داخل ہو گیا ہے جہاں عوام کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ لاڑکانہ میں لوگ محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں جب کہ شکار پور اور خیرپور میں بھی صورت حال خاصی خراب ہے۔ آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا میں بھی لوگ سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو بارشوں اور سیلاب کے باعث ہزاروں لوگ گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور وسیع پیمانے پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئی ہیں۔

پاکستان میں حالیہ بارشیں اور سیلاب اچانک نہیں آ رہے، یہ ایسا موسمیاتی عمل ہے جو ہر سال دہرایا جاتا ہے اور صدیوں سے یہ عمل جاری وساری ہے۔ ہر سال ساون بھادوں میں بارشیں ہوتی ہیں۔ ان ہی ایام کے دوران دریاؤں میں سیلاب آتے ہیں لہٰذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ اچانک آنے والی قدرتی آفت ہے۔ پاکستان میں برسراقتدار آنے والے حکومتیں اگر موسمی تغیر، بارشوں اور سیلاب کے سالانہ ریکارڈ کو سامنے رکھ کر اقدامات کرتیں تو یہ موسم زحمت اور تباہی کے بجائے رحمت میں تبدیل ہو سکتے تھے۔ بارشوں اور سیلاب کے باعث ہر سال لاکھوں ایکڑ فٹ پانی ضایع ہوتا ہے۔

عوام یہ سوچتے ہیں کہ ہر سال ہونے والی بارشوں کے بے پناہ پانی کومحفوظ کرنے اور اسے خشک سالی کے موسم کے لیے ذخیرہ کرنے کے لیے آخر ہمارے ارباب اختیار نے کوئی منصوبہ کیوں نہیں بنایا؟ اور اگر زندگی موت کی مانند اس قدر اہم مسئلے کی طرف ان کی توجہ مبذول نہیں ہوئی تو کیا اسے مجرمانہ غفلت کا نام نہیں دیا جا سکتا؟ ہمارے ارباب بست و کشاد جہاں کشکول تھامے ترقی یافتہ ممالک کے سرکاری دورے کر سکتے ہیں تو کیا ان سرفراز ممالک سے سیلاب سے بچاؤ کا کوئی طریقہ نہیں پوچھ سکتے۔ یورپی ملکوں میں ہالینڈ نے تو اس حوالے سے معجزے برپا کیے ہیں اور ایک ایسا جدید ترین اسٹیٹ آف دی آرٹ نظام وضع کر لیا ہے جس سے وہ اس معاملے میں دیگر ممالک کی بھی رہنمائی کر سکتا ہے۔

مگر ہمارے ملک میں ایک مصیبت یہ بھی ہے یہی بارشیں اور سیلاب جہاں کمزوروں اور ناداروں کے لیے مصائب و آلام لاتے ہیں وہاں امراء کے لیے یہ تفریح کا باعث ہوتے ہیں۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی امداد اور بحالی کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور اس سلسلے میںکوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی، مشکل کی اس گھڑی میں متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، آخری متاثرہ شخص کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ وہ ہفتہ کو نارووال کے علاقہ بدوملہی میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لینے کے موقع پر گورنمنٹ کالج میں بریفنگ کے دوران اظہار خیال کر رہے تھے۔ وزیر اعظم نے سیلاب سے متاثرہ افراد میں پانچ پانچ لاکھ کے امدادی چیک تقسیم کیے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کی باتیں اپنی جگہ درست ہیں، حکومت کا یہی فرض ہے کہ وہ سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد کرے لیکن اصل معاملہ پھر وہی ہے کہ اگلے سال دوبارہ سیلاب آئے گا اور بارشیں ہوں گی، حکومت ایک بار پھر وہی کچھ کرے گی جو آج کر رہی ہے۔

اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مستقل بنیادوں پر کوئی کام نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان میں جتنی بارشیں ہوتی ہیں، دنیا میں کئی ملکوں میں اس سے کئی گنا زیادہ بارشیں ہوتی ہیں۔ وہاں دریاؤں میں پانی ہمارے دریاؤں سے کئی گنا زیادہ آتا ہے لیکن ان حکومتوں نے ایسے اقدامات کیے ہیں جس سے نقصان نہیں ہوتا۔ لندن شہر کے درمیان میں بہنے والے دریائے ٹیمز میں یقینی طور پر بعض ایام میں پانی کا حجم بہت بڑھ جاتا ہو گا لیکن کبھی یہ نہیں سنا کہ دریائے ٹیمز میں آنے والے سیلاب کے باعث لندن شہر میں کوئی نقصان ہوا یا اس کے اردگرد دیہات پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ اسی طرح پیرس میں دریائے سین بہتا ہے۔ وہاں سے بھی کبھی بری اطلاعات نہیں آئیں لیکن پاکستان ان بدقسمت ملکوں میں شامل ہے جہاں ہر سال بارشوں اور سیلاب سے قیمتی جانوں کا بھی نقصان ہوتا ہے اور فصلیں بھی اجڑ جاتی ہیں، لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں۔ شہروں میں بارشوں کے باعث معمولات زندگی معطل ہو جاتی ہیں، گلیاں ندی نالوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں، سیوریج سسٹم بیٹھ جاتا ہے اور گندے نالے ابلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ نااہلی کے زمرے میں آتا ہے۔

اگر حکومت عوامی ادارے مضبوط کرتی تو آج یہ صورت حال نہ ہوتی۔ کراچی، لاہور، فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی اور پشاور جیسے شہروں میں لوگوں نے ایسی جگہ آبادیاں قائم کر لیں جہاں سیلاب آتا ہے یا وہ نشیبی علاقے ہیں جہاں بارش کا پانی جمع ہو جاتا ہے۔ حکومت نے اس جانب توجہ نہیں دی اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ معمولی بارشوں سے بھی نشیبی آبادیاں پانی سے بھر جاتی ہیں۔ گندے نالوں کی صفائی کا بندوبست نہیں کیا جاتا۔ دیہاتوں میں جو سیم نالے بنائے گئے تھے، انھیں بھی کبھی صاف نہیں کیا گیا۔ راولپنڈی میں نالہ لئی برسوں سے تباہی مچا رہا ہے، اس حوالے سے بھی کوئی کام نہیں ہوا۔ سیالکوٹ نارووال میں نالہ ڈیک اور نالہ ایک ہر سال تباہی مچاتے ہیں۔ کراچی میں ملیر ندی تباہی مچاتی ہے لیکن اس حوالے سے حکومتوں نے کوئی ماسٹر پلان تیار نہیں کیا۔ موجودہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو ماضی کی نااہلیوں اور کوتاہیوں کا ازالہ کرتے ہوئے جنگی بنیادوں پر کام کرنا چاہیے تاکہ اس برس تو جو ہو گیا سو ہو گیا، اگلے برس تباہی اور بربادی سے بچا جا سکے۔