سندھ اسمبلی نیا بلدیاتی بل آج پیش کرنے کا فیصلہ ترمیم کے بغیر مسودے کو مسترد کردینگے متحدہ

بل جوں کاتوں منظورہوا تو یہ آئین کے منافی ہوگا،احتجاج کرینگے،سرداراحمد،تجاویزشامل ہوئیں توحمایت کریں گے،امتیاز شیخ


Staff Reporter August 19, 2013
متفقہ بلدیاتی نظام کیلیے تمام جماعتوں سے مشاورت کرکے انکی تجاویزمسودے میں شامل کیں،قائم علیشاہ،پی پی کے ارکان کوآج اجلاس میں لازمی شرکت کرنیکی ہدایت۔ فوٹو: فائل

پیپلز پارٹی سندھ کی پارلیمانی پارٹی نے سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے مسودے کی منظوری دے دی ہے جسے منظوری کے لیے آج سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کا کہنا ہے کہ اگرنئے بلدیاتی نظام کابل جوں کاتوں منظور کیا گیا تواسے مسترد کردیاجائے گااوراس کے خلاف بھرپوراحتجاج کیا جائے گا۔پیپلزپارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس وزیراعلیٰ ہائوس میں میں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی صدارت میں ہوا۔اجلاس میں پیپلزپارٹی کے ارکان اسمبلی نے شر کت کی۔اجلاس میں صوبے میںنئے بلدیاتی نطام کے مجوزہ مسودے اورپیر کوسندھ اسمبلی کے ہونے والے اجلاس سے متعلق مشاورت کی گئی ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ نے کہاکہ سندھ میں متفقہ بلدیاتی لانے کیلیے تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی گئی ہے جس کے بعدمختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے دی گئی تجاویزکوبھی مسودے میں شامل کیا گیاہے۔

اجلاس میں تمام پیپلزپارٹی کے ارکان اسمبلی کوہدایت کی گئی ہے کہ وہ پیر کوسندھ اسمبلی کے اجلاس میں لازمی شرکت کریں۔باخبرذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ کی صدارت میں اتوارکو وزیراعلیٰ ہائوس میں بھی ایک اہم اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزرانثار کھوڑو، شرجیل انعام میمن، ڈاکٹرسکندر میندھرواوردیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں بلدیاتی نظام کے حوالے سے قائم وزارتی کمیٹی نے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو تفصیلی بریفنگ دی۔وزارتی کمیٹی کے ارکان نے وزیراعلیٰ سندھ کونئے بلدیاتی نظام کے مسودے کے حوالے سے متحدہ قومی موومنٹ،مسلم لیگ فنکشنل،مسلم لیگ(ن) اور دیگر جماعتوں سے ہونے والی مشاورت سے آگاہ کیا، کمیٹی نے وزیراعلیٰ سندھ کو ان جماعتوں کی جانب سے پیش کردہ تجاویز سے متعلق آگاہ کیا،ذرائع کے مطابق فیصلہ کیا گیا ہے کہ پیر کونئے بلدیاتی نظام کابل سندھ اسمبلی میں پیش کیاجائے گا۔



اجلاس میں یہ فیصلہ کیاگیا کہ بل کی منظوری سے قبل سندھ اسمبلی کی تمام پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت کی جائے گی۔اس حوالے سے رابطہ کرنے پرمتحدہ قومی موومنٹ کے رہنماسید سردار احمد نے بتایا کہ حکومت نے پیرکوسندھ اسمبلی کے ہونے والے اجلاس میں نئے بلدیاتی نظام کے بل کو پیش کرنے کے بارے میں ہمیں آگاہ نہیں کیا،اگر نیا بلدیاتی نظام کا بل جوں کا توں منظور کرایا گیاتویہ آئین کی رو کے منافی ہوگا،ایم کیو ایم سندھ میں لوکل باڈیز سسٹم نہیں بلکہ لوکل گورنمنٹ سسٹم چاہتی ہے۔اس حوالے سے پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے رہنماامتیاز شیخ نے بتایاکہ نئے بلدیاتی نظام میں فنکشنل لیگ کی تجاویزکوشامل کیا گیا تو ہم اس بل کی حمایت کریں گے۔

تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی سید حفیظ الدین نے کہا کہ حکومت سندھ نے بلدیاتی بل کے حوالے سے تحریک انصاف سے کوئی مشاورت نہیں کی ہے،اگرزبردستی بلدیاتی نظام کابل سندھ اسمبلی سے منظور کرایا گیا توتحریک انصاف بھرپوراحتجاج کرے گی۔ سندھ اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کے اجلاس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی سید حفیظ الدین نے کہا ہے کہ سندھ میں بلدیاتی نظام کے لیے تیار کردہ مسودے پر تحریک انصاف سے تاحال کوئی مشاورت کی گئی ہے نہ ہی ہمیں مسودے کی کوئی کاپی فراہم کی گئی پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم) ایک بار پھر نورا کشتی کے ذریعے صوبے میں عوام کی بجائے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔

مسلم لیگ(ن)کے رکن سندھ اسمبلی عرفان اللہ مروت نے کہاکہ نئے بلدیاتی نظام کے بل کے حتمی مسودے کاجائزہ لینے کے بعدکوئی فیصلہ کریںگے۔قبل ازیں وزیر اعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ کی زیر صدارت بلدیاتی نظام سے متعلق بنائی گئی کمیٹی کااجلاس وزیراعلیٰ ہائوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسپیکرسندھ اسمبلی آغاسراج درانی، سینئر صوبائی وزیرتعلیم نثار احمد کھوڑو،میر ہزار خان بجارانی،ڈاکٹر سکندرمیندھرو،شرجیل انعام میمن،جام خان شورو،تاج حیدر ، وقار مہدی اور نجمی عالم نے شرکت کی۔اجلاس میں سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے مجوزہ مسودے اورآج ( پیر کو)ہونے والے سندھ اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی سے متعلق مشاورت کی گئی۔