دہشت گردوں کا ٹھکانہ جیل ہی ہے

قومی سلامتی کی پالیسی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مجوزہ مشترکہ انٹیلی جنس سیکریٹریٹ کے قیام کی اطلاع خوش آیند...


Editorial August 19, 2013
منی پاکستان مین مصروف ترین وی آئی پی شارع فیصل پر بھی اغوا برائے تاوان کی وارداتیں شروع ہوچکی ہیں. فوٹو: فائل

قومی سلامتی کی پالیسی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مجوزہ مشترکہ انٹیلی جنس سیکریٹریٹ کے قیام کی اطلاع خوش آیند ہے، اسی طرح افغانستان کے صدر حامد کرزئی کی اگلے ہفتہ پاکستان کا دورہ بھی یقیناً خطے میں بدامنی اور دہشت گردی کے خاتمہ میں ممد و معاون ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ پاکستان کو دہشت گردی کا ورثہ نائن الیون نے دیا ہے۔

تاہم داخلی طور پر ملک کے تین صوبوں بلوچستان،خیبر پختونخوا اور کراچی سمیت اندرون سندھ کی صورتحال بدستور دہشت انگیز اور ہولناک بتائی جاتی ہے جہاں قانون کا نفاذ نہ ہونے کے برابر ہے جہاں مجرمانہ عناصر اور دہشت گرد تنظیموں کے نیٹ ورک کی کارستانیاں جاری ہیں ۔یہ گروہ اتنے دیدہ دلیر اور بے خوف ہوچکے ہیں کہ مطلوب افراد کو ہلاک کرکے ان کی بوری بند لاشیں کہیں بھی پھینک دیتے ہیں۔دوسری طرف اندھا دھند فائرنگ کے واقعات میںمجرموں کے ساتھ ساتھ بیگناہ شہری بھی مارے جارہے ہیں۔ گزشتہ روز کراچی میں 6 افراد ہلاک ہوگئے جس میں شاہ لطیف ٹاؤن کے 25 سالہ مقتول کا تعلق لیاری گینگ وار کے ارشد پپو گروپ سے تھا جو وہاں روپوشی کی زندگی گزار رہا تھا۔دیگر مقتولین کو بھی کسی نہ کسی مجرمانہ تعلق اور لنک کے باعث قتل کیا گیا۔

ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق منی پاکستان مین مصروف ترین وی آئی پی شارع فیصل پر بھی اغوا برائے تاوان کی وارداتیں شروع ہوچکی ہیں،ملزمان کالا بورڈ سے کارساز سگنل تک دندناتے پھرتے ہیں اور شکار کی تاک میں رہتے ہیں جب کہ کوئٹہ میں مسلح افراد کی ایف سی چیک پوسٹ پر فائرنگ سے 2ایف سی اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوگیا،جوابی فائرنگ سے ایک حملہ آور بھی مارا گیا،فائرنگ اور بم دھماکے کے دیگر واقعات میں 4افراد جاں بحق اور7زخمی ہوگئے۔ چمن کے علاقے محمودآباد میں نامعلوم افراد کی فائرنگ دو بھائی محمد ظاہر اور محمد قاہر جاں بحق ہوگئے۔موسیٰ خیل میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص نور جان جاں بحق ہوگیا، آر ڈی238 صحبت پور کے علاقے دورہ بھٹہ میں امن فورس اور مسلح افراد کے درمیان مسلح تصادم میں ایک شخص شاہ نواز جاں بحق اور تین زخمی ہوگئے ۔ کوئٹہ کے علاقے کلی کوتوال میں نامعلوم افراد کی فائرنگ محمد انور اور اس کی بیٹی ساحرہ زخمی ہوگئے ، حب میں عدالت روڈ پر کچرے کے ڈھیر میں بم دھماکے سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا،کوہلو میں سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر فائر کیا گیا راکٹ کھلے میدان میں گر کر پھٹ گیا، خضدار کے علاقے سنی میں نامعلوم مسلح افراد زمیندار عبدالکریم کو اغوا کر کے لے گئے جس کے خلاف علاقے کے لوگوں نے کوئٹہ کراچی شاہراہ بلاک کرکے احتجاج کیا ۔اسی طرح صوابی میں جہانگیرہ روڈ پر پولیس ناکہ پرنا معلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ سے دو اہلکار شہید جب کہ ایک اہلکار اورایک راہگیر شدید زخمی ہوگیا۔

نمایندہ ایکسپریس اور ان کا دوست اغواء کیا گیا جب کہ 1کروڑ تاوان طلب کرنے اور 20 گھنٹے گزرنے کے باوجود مقدمہ درج نہ ہوسکا۔ مغویوں کے اہل خانہ وزیر اعظم' وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر اعلیٰ سندھ سے مغویوں کی بحفاظت بازیابی کی اپیل کی ہے۔ دہشت گرد کارروائیوں اور قانون شکنی کی ایسی بدترین فضا میں ارباب اختیار سیکیورٹی پالیسی اور شہریوں کے جان و مال اور امن عامہ کے مقاصد کی تکمیل میں کچھ زیادہ پر جوش نظر نہیں آتے ، معاشرے میں قانون کے عدم احترام اور ٹارگٹ کلنگ کی مسلسل وارداتوں نے دہشت گردی کا جو عذاب ملک پر مسلط کیا ہے وقت آگیا ہے کہ اس کے بھیانک نتائج سے نظریں نہ چرائی جائیں، دہشت گردی کے ان اکا دکا واقعات کے پس پردہ سماجی انحطاط ، معاشی بدحالی، انصاف کی فوری فراہمی کے فقدان اور عدلیہ کے احکامات کی عدم پیروی کے باعث صورتحال خاصی مخدوش ہوچکی ہے۔

کراچی اور بلوچستان کی بدامنی کیسوں کے فیصلوں پر عمد درآمد نہیں ہوگا تو سیل خوں نہیں رک سکے گا ، میڈیا کا شور اور احتجاجی لب و لہجہ اس امر پر مرکوز ہے کہ کرپٹ افسران اور مختلف مقدمات میں ملوث پولیس اہلکاروں کااعلیٰ عہدوں پر فائز ہونا ایک المیہ ہے ۔اگر ڈیرہ جیل کے 74 مفرور قیدی رضاکارانہ طور پر واپس آگئے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ دہشت گرد از خوددہشت گردی سے رضاکارانہ طور پر کسی روز تائب ہوجائیں گے بلکہ ان کو سختی سے کچلنا ہوگا اور ایسے ملک گیر اقدامات اور نتیجہ خیز کریک ڈاؤن کی حکمت عملی بنانی پڑے گی کہ کوئی کتنا ہی خطرناک دہشت گرد نیٹ ورک چلا رہا ہو اسے قانون کے مطابق گرفتار کرکے سزا سنا کر جیل کی آہنی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دینا چاہیے ۔ یہی واحد حل ہے۔