وزیراعظم کا قوم سے پہلا خطاب

وزیراعظم نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں بڑے مدلل اور مدبرانہ انداز میں ملک و قوم کو درپیش چیلنجوں کا ذکر کیا ہے.


Editorial August 20, 2013
وزیر اعظم نے وطن عزیز کو درپیش توانائی کے بحران‘ دہشت گردی اور انتہا پسندی‘ پاک بھارت تعلقات‘ پاک چین تعلقات اور ملک کے لیے تعمیر و ترقی کے منصوبوں اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے بڑے واضح اور کھلے انداز میں اظہار خیال کیا۔ فوٹو : اے پی پی

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر قوم سے اپنے پہلے خطاب میں بڑے مدلل اور مدبرانہ انداز میں ملک و قوم کو درپیش چیلنجوں کا ذکر کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی حکومت کی ترجیحات بھی واضع کی ہیں۔ انھوں نے وطن عزیز کو درپیش توانائی کے بحران' دہشت گردی اور انتہا پسندی' پاک بھارت تعلقات' پاک چین تعلقات اور ملک کے لیے تعمیر و ترقی کے منصوبوں اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے بڑے واضح اور کھلے انداز میں اظہار خیال کیا ہے۔ انھوں نے اپنے خطاب کے دوران عسکریت پسندی کی راہ اختیار کرنے والوں کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کی موجودہ صورتحال ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آج پاک فوج، سیکیورٹی اداروں، پولیس اہلکاروں اور معصوم پاکستانیوں سمیت 40ہزار سے زیادہ لوگ دہشت گردی کی نذر ہو چکے ہیں۔ کئی علاقوں میں ہماری بیٹیاں تعلیمی اداروں کا رخ نہیں کرسکتیں۔

کھیل کے میدان غیرملکی ٹیموں کے لیے ترس رہے ہیں۔ زیارت میں ہمارے قائد کی یادگار کو بموں سے اڑا دیا جاتا ہے۔ ہماری درسگاہیں اور عبادتگاہیںخون میں نہلا دی جاتی ہیں۔ ان سب المیوں سے بڑا ا لمیہ یہ ہے کہ ہم اپنے اندر اتنی طاقت نہیں پاتے کہ مجرموں کا ہاتھ روک سکیں، انھیں شناخت کر سکیں، ان کی کمین گاہوں کی نشاندہی کرسکیں اور پھر انھیں قانون کے آہنی گرفت میں لاکر کیفر کر دار تک پہنچا سکیں۔ یہ سب کیا ہے' اسے نا اہلی کا نام دیا جائے یا بے حسی کا نام دیا جائے لیکن جو کچھ بھی کہا جائے پاکستان اس صورتحال کا مزید متحمل نہیں ہوسکتا ۔ وقت آگیا ہے کہ ہم سیاہ کو سیاہ اور سفید کو سفید کہنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ وقت آگیا ہے کہ ہم یہ اعتراف کریں کہ ہمارے انتظامی اداروں، ہماری ایجنسیز اور ہمارے سزا اور جزا کے نظام نے خود کو دہشتگردی کے سنگین چیلنجز سے عہدہ برآہونے کا اہل ثابت نہیں کیا۔ اگر ایسا ہوتا تو آج چہارسو آگ، بارود اور خون کا یہ کھیل نہ ہوتا۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے پاکستان میں جاری دہشت گردی کے حوالے سے جن خیالات کا اظہار کیا ہے' موجودہ حالات کے تناظر میں وہ درست ہے۔ دہشت گردوں نے پاکستان کے بین الاقوامی وقار' معیشت' عوام اور اقتدار اعلیٰ کو جو نقصان پہنچایا' وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ملک کی ایجنسیوں' انتظامی اداروں اور جزا و سزا کے نظام کی خامیاں اور ناکامیاں بھی سب کے سامنے آ چکی ہیں۔ انتہا پسندوں سے مذاکرات کی باتیں ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں' اب میاں محمد نواز شریف نے انتہا پسندوں یا عسکریت پسندوں سے مذاکرات کی بات ہی نہیں بلکہ مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ مسلم لیگ ن اور دائیں بازو کی دیگر سیاسی جماعتیں مسلسل انتہا پسندوں سے مذاکرات کی باتیں کر رہی ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان نے حالیہ عام انتخابات سے قبل کہا تھا کہ اگر میاں نواز شریف' مولانا فضل الرحمن اور منور حسن ضامن بنیں تو وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

پاکستان میں پہلی بار ایک وزیراعظم نے قوم سے خطاب کے دوران انتہا پسندوں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ ملک میں خونریزی کے ذمے دار گروہوں سے بات چیت ہونی چاہیے یا ان سے آہنی ہاتھ سے نبٹا جائے' اس بحث سے قطع نظر اب چونکہ وزیراعظم نے انتہا پسندوں یا عسکریت پسندوں کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے تو اس کے جواب کا انتظار کیا جانا چاہیے۔ حکومت کو حق حاصل ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جو مناسب سمجھے حکمت عملی اختیار کرے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے اپنے خطاب میں کسی خاص انتہا پسند گروپ کا نام نہیں لیا' یوں مذاکرات کی پیشکش اپنے اندر ابہام کا عنصر بھی رکھتی ہے۔ وزیراعظم نے بلوچستان کا بھی ذکر کیا ہے' اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کی مذاکرات کی پیشکش میں کالعدم تحریک طالبان اور بی ایل اے دونوں شامل ہیں یا اس دائرے میں دیگر گروپ بھی آتے ہیں۔ پاکستان میں عسکریت پسندی کی بہت سی جہتیں ہیں' کالعدم تحریک طالبان اور اس کی دیگر سسٹر آرگنائزیشنز کا سیاسی ایجنڈا کسی ایک صوبے کی علیحدگی نہیں ہے بلکہ پورے ملک کے نظام کو تبدیل کرنا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے بیلٹ کے بجائے بلٹ کا راستہ اختیار کر رکھا ہے۔

دہشت گردی میں بعض فرقہ پرست تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ بلوچستان میں سرگرم عمل ہتھیار بند گروہ اپنی سرشت میں قدرے لبرل ہیں لیکن وہ علیحدگی پسندی کے راستے پر گامزن ہیں' اب سوال یہی ہے کہ کیا ان سب کو مذاکرات کی دعوت ہے یا اس میں کوئی فرق موجود ہے؟ اب اس حوالے سے کسی عسکریت پسند گروپ کا ردعمل سامنے آئے گا تو پتہ چلے گا کہ مذاکرات کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ بہر حال انتہا پسندوں سے اب تک جو مذاکرات ہوئے ہیں' اس کی تاریخ خوشگوار نہیں ہے۔ شمالی وزیرستان میں نیک محمد اور جنرل صفدر حسین سے لے کر سوات میں صوفی محمد اور اے این پی کے رہنمائوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے اور ان کا انجام فوجی آپریشن کی صورت میں سامنے آیا۔ اب موجودہ حکومت نے بھی مذاکرات کا بیڑا اٹھایا ہے' قوم اب اس کے نتائج دیکھنے کی خواہش مندہے' ہر پاکستانی کی دلی خواہش ہے کہ پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے۔

وزیراعظم میاں نوازشریف نے بھی اسی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں' یہ مذاکرات کی میز پر ہو یا آپریشن کے ذریعے' قوم کی دعا ہے کہ موجودہ حکومت اپنے مشن میں کامیاب ہو اور اس ملک میں امن و امان قائم ہو جائے۔ بلوچستان کے بارے میں بھی وزیراعظم نواز شریف نے جو باتیں کی ہیں' اس سے یہی لگتا ہے کہ وہ اس صوبے میں امن چاہتے ہیں' اس صوبے میں مسلم لیگ ن کی حکومت بن سکتی تھی لیکن اس نے قربانی دی اور ڈاکٹر عبدالمالک کو حکومت بنانے کی دعوت دی۔ بلوچستان کے بارے میں وزیراعظم بہت زیادہ ہمدردانہ رویہ رکھتے ہیں' ان کے اختر مینگل اور طلال بگٹی سے بھی اچھے تعلقات ہیں' بلوچستان کے ناراض سیاستدان میاں نواز شریف کی عزت کرتے ہیں لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہو گی۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے خطاب میں مزید کہا ہے کہ الیکشن کے بعد کھلے دل کے ساتھ سیاسی جماعتوں کو پاکستان کی تعمیر و ترقی اور درپیش مسائل کے حل کے لیے حکومت کے ساتھ بیٹھ کر کام کر نے کی دعوت دی تھی' مصالحت اور مفاہمت کی پیشکش صرف سیاسی جماعتوں اوررہنمائوں کے لیے نہیں'میں ایک قدم آگے بڑھ کر ان عناصر کو بھی ڈائیلاگ کی دعوت دیتا ہوں جو بد قسمتی سے انتہا پسندی کی راہ اپنا چکے ہیں۔ حکومت کے پاس دہشتگردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک سے زائد آپشن موجود ہیں مگر دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ ایک ایسا راستہ اختیار کیا جائے جس میں مزید معصوم انسانی جانیں ضایع نہ ہوں۔ اس سے ان کی ترجیحات ظاہر ہوتی ہیں کہ ہر صورت میں بد امنی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کی بحالی درست سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے۔ دہشت گردی ہو یا پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی' ان معاملات میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ہی پیج پر ہونا چاہیے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان نے ساٹھ برس سے زائد جس خارجہ پالیسی کو اپنائے رکھا اس میں جوہری تبدیلی لائی جائے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے چین اور بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش کا جو اظہار کیا ہے وہ مستقبل کی خارجہ پالیسی کے خدوخال کو واضح کرتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکا دنیا کی واحد سپر پاور ہے۔ یورپی یونین بھی ایک ابھرتی ہوئی قوت ہے۔ بھارت بحرہند کی ایک بڑی اقتصادی قوت کا روپ دھار چکا ہے۔ چین تو خیر دنیا کی سپر پاورز میں شامل ہے۔ رشین فیڈریشن کی طاقت و قوت بھی عالمی سطح پر معنی رکھتی ہے۔ اب پاکستان کو ان تمام قوتوں کے ساتھ اپنے قومی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے نئے سرے سے معاملات طے کرنے چاہئیں۔ جہاں تک ڈرون حملوں کو بند کرانے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے معاملات ہیں 'ان میں امریکا کے ساتھ معنی خیز بات چیت ہونی چاہیے۔

ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ امریکی انتظامیہ بھی اپنی پالیسی میں تبدیلیاں لا رہی ہے۔ آنے والے وقت میں ہو سکتا ہے کہ امریکا اپنے ذمے بہت سی عالمی ذمے داریوں سے خود ہی دستبردار ہو جائے۔ ایسی صورت میں بحر ہند کے خطے میں عوامی جمہوریہ چین اور بھارت کا کردار انتہائی اہم ہو گا۔ بحراوقیانوس کے خطے میں ممکن ہے یورپی یونین متحدہ طور پر اپنا کردار ادا کرے۔ روس وسط ایشیاء اور مشرقی یورپ میں کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔ اس عالمی جیو پولیٹیکل صورت حال میں پاکستان کو بھی اپنے مفادات کا ازسرنو تعین کرنا پڑے گااور اسی کی روشنی میں خارجہ پالیسی کے اہداف میں تبدیلی آئے گی۔ اب سرد جنگ ختم ہو چکی ہے۔ سرد جنگ سے وابستہ دوستیاں اور دشمنیاں بھی تبدیل ہو رہی ہیں۔ پاکستان کو بھی اب بھارت کے ساتھ نئے سرے سے تعلقات قائم کرنے کے بارے میں قابل عمل پالیسی پر عمل کرنا ہوگا۔

وزیراعظم میاں نواز شریف نے اپنے خطاب میں قومی مفادات کے حوالے سے اپنی حکومت کی پالیسیوں کی خاصی حد تک وضاحت کردی ہے۔ ان کے اقتصادی ویژن میں وسط ایشیاء اور سائوتھ ایشیاء کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ وہ وسط ایشیا اور سائوتھ ایشیاء کے ممالک کے درمیان ایک اقتصادی بلاک کا نظریہ پیش کر رہے ہیں۔ یہ ایسا نظریہ ہے جو ناقابل عمل نہیں ہے۔ صدیوں سے یہ خطے اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز رہے ہیں اور ان کا ایک دوسرے پر ہمیشہ سے انحصار رہا ہے۔ وسط ایشیاء کے لیے جنوبی ایشیاء کی بہت زیادہ اہمیت ہے کیونکہ اسی خطے سے اس کے رابطے مشرق وسطیٰ اور افریقہ سے ہوتے ہوئے یورپ تک قائم ہوتے ہیں ۔