سانحہ کرائسٹ چرچ میں استعمال ہونے والا اسلحہ پولیس اسٹیشن سے چوری

چوری ہونے والے ہتھیار وہ ہیں جو لوگوں نے تصدیق یا تلف کرنے کے لیے جمع کرائے تھے، سینٹرل ڈسٹرکٹ کمانڈر انسپکٹر


ویب ڈیسک April 27, 2019
جس گاڑی میں مشکوک شخص فرار ہوا تھا وہ مل گئی، پولیس (فوٹو: فائل)

سانحہ کرائسٹ چرچ کے سفاک ملزم کی جانب سے استعمال کیا گیا اسلحہ نیوزی لینڈ کے پولیس اسٹیشن سے چوری ہوگیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی پلمرسٹن کے ایک پولیس اسٹیشن کے اسٹور روم سے ملزم نے 11 بندوقیں چوری کیں اور گاڑی میں بیٹھ کر بآسانی فرار ہوگیا، ملزم کو فرار ہوتے ہوئے ایک پولیس افسر نے دیکھا تاہم وہ اسے روکنے میں ناکام رہا۔

سینٹرل ڈسٹرکٹ کمانڈر انسپکٹر سارہ اسٹیورٹ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پولیس اسٹیشن کے اسٹور روم سے 11 ہتھیار چرائے گئے جن کے متعلق فی الحال معلومات دستیاب نہیں ہیں تاہم یہ وہ ہتھیار ہیں جو لوگوں نے تصدیق یا تلف کرنے کے لیے جمع کرائے تھے۔

سارا اسٹیورٹ کا کہنا تھا کہ چرائی گئی کچھ بندوقیں وہ تھیں جو لوگوں نے کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں بڑے پیمانے پر قتل عام کے واقعے کے بعد پولیس اسٹیشن میں جمع کرائی تھیں، پولیس اس مشتبہ شخص کو تلاش کر رہی ہے، پولیس کو وہ گاڑی مل گئی جس میں مشکوک شخص فرار ہوا تھا۔

واضح رہے کہ کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں ایک مسلح شخص کی اندھا دھند فائرنگ میں 50 نمازیوں کی ہلاکت کے بعد نیوزی لینڈ کی حکومت نے ہتھیار رکھنے سے متعلق نئے سخت ترین قوانین نافذ کر دیے ہیں جس کے نتیجے میں لوگ اپنے خودکار اور نیم خود کار ہتھیار پولیس کے پاس جمع کروا رہے ہیں۔