پاک تھائی اقتصادی تعلقات میں پیش رفت

وزیر اعظم نے تھائی وزیر اعظم سے اقتصادی سماجی اور تجارتی شعبوں میں تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔


Editorial August 21, 2013
تھائی لینڈ کو دنیا میں اس کی نئی برآمدی پالیسی اور حکمت عملی کے لحاظ سے ایک انفرادیت حاصل ہے۔فوٹو : اے ایف پی/ فائل

FAISALABAD: وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ تھائی وزیر اعظم ینگ لک شینا وترا سے بات چیت میں مکمل اتفاق پایا گیا ہے کہ دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینا ہو گی، تھائی لینڈ کے ساتھ اقتصادی شراکت داری چاہتے ہیں اور آیندہ پانچ سال میں باہمی تجارت کو د گنا کرنا چاہتے ہیں۔ تھائی وزیر اعظم کی قیادت میں وفد سے مذاکرات اور بعد ازاں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس امر پر بھی اتفاق پایا گیا ہے کہ دو طرفہ تجارت کے لیے فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے مرحلے کی جانب بڑھنے کے لیے کام کیا جائے، اس مقصد کے لیے جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی اور نجی سطح پر جوائنٹ بزنس کونسل قائم کی جائے جس سے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت کے فروغ میں عملی طور پر مدد ملے گی۔

وزیر اعظم نے تھائی وزیر اعظم سے جن اقتصادی سماجی اور تجارتی شعبوں میں تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا عندیہ دیا ہے وہ پاکستان کو درپیش اقتصادی مسائل، عالمی معاشی صورتحال اور خطے کے اہم صنعتی اور برآمدی ممالک سے دو طرفہ تعلقات میں وسعت اور نمو کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔ تھائی لینڈ کو دنیا میں اس کی نئی برآمدی پالیسی اور حکمت عملی کے لحاظ سے ایک انفرادیت حاصل ہے، اس نے یہ برق رفتار ترقی اپنے زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے موزوں صنعتی پالیسی کے ذریعے حاصل کی ہے اور آج اسے صنعتی ممالک میں ایک قابل اعتماد برآمدی ملک تصور کیا جاتا ہے۔ 1985-96ء تھائی معیشت کی ترقی اور پھیلائو کا نمایاں دورانیہ ہے، تھائی چاول دنیا بھر میں مقبول ہے، اس کے علاوہ 105 بلین ڈالر کے ہدف سے اب وہ مزید برآمدی حجم کی توسیع کے منصوبے رکھتا ہے، تھائی ربڑ، ملبوسات، فشری پروڈکٹس، جیولری،کاریں، کمپیوٹرز اور دیگر الیکٹریکل اپلائنسز کی تیاری میں تھائی انجینئر نت نئے تجربات میں مصروف ہیں۔

وہ اپنی برآمدات کے حجم کو جس تیزی سے وسعت دے رہا ہے پاکستان اس کی حکمت عملی اور نتائج سے استفادہ کر سکتا ہے۔ تھائی لینڈ میں دنیا کے امیر ترین خاندان بھی سکونت پذیر ہیں جو وہاں کے سماجی ماحول اور عوام میں خیر سگالی کے جذبات کے باعث کسی قسم کی اجنبیت محسوس نہیں کرتے۔ قبل ازیںاسلام آباد پہنچنے پر وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمٰن اور اعلیٰ حکام نے تھائی لینڈ کی وزیر اعظم ینگ لک شیناوترا کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ اس موقع پرتھائی وزیر اعظم کو19 توپوں کی سلامی دی گئی جب کہ تینوں مسلح افواج کے ایک چاق و چوبند دستے نے بھی انھیںسلامی دی۔ وہ گزشتہ ایک دہائی میں پاکستان کا دورہ کرنیوالی پہلی تھائی وزیر اعظم ہیں۔ ادھر جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی کی اسلام آباد میں میٹنگ ہوئی جس میں دو طرفہ تجارت کے فروغ کے مواقع پر غورکیا گیا۔

دونوں جانب سے اس توقع کا اظہارکیا گیا کہ ان اقدامات سے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری اور دوطرفہ تجارت کے فروغ میںمدد ملے گی، وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے تھائی سرمایہ کاروںکو پاکستان میں توانائی، آٹو پارٹس، فوڈ پراسیسنگ، ہیرے جیولری، نوادرات، ٹور ازم اور ہوٹلنگ انڈسٹری میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔ تھائی لینڈ کی وزیراعظم ینگ لک شیناوترا نے اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان عوام کی سطح پردوطرفہ رابطے اورتعلقات بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس سے دوطرفہ تجارت اور علاقائی تعاون کی منزلیںآسان ہوں گی۔ انھوں نے کہا کہ انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خلاف پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے لیے عالمی اور علاقائی تعاون اہم ترین ہے۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان شاندار تعلقات کی تاریخ گزشتہ ساٹھ سال سے زائد عرصے پر محیط ہے اور یہ تعاون آیندہ بھی جاری رہے گا۔

انھوں نے حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں پاکستان کے بھاری جانی و مالی نقصان پران کی حکومت اورعوام کی جانب سے افسوس کا اظہارکیا اور 11 مئی کے انتخابات کے بعد جمہوری انداز میں انتقال اقتدار پر پاکستان کے عوام کو مبارکباد اور ان کی جمہوری سوچ کی تعریف کی جب کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قربانیوںکو سراہا ۔ علاوہ ازیںپاکستان اور تھائی لینڈ نے دو طرفہ تجارت، اقتصادی تعلقات اورکاروباری روابط بڑھانے کے لیے مفاہمت کی 2 یادداشتوں اور ایک معاہدہ پردستخط کیے۔ دونوںممالک نے 2018ء تک دوطرفہ تجارت کا حجم دگنا کرنے پر اتفاق کیا۔ نجی سطح پرکاروباری رابطوںکو فروغ دینے کی غرض سے دونوں ممالک نے ایک مشترکہ بزنس کونسل کے قیام کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر بھی دستخط کیے جب کہ دونوں ممالک کے سفارتکاروںکو ویزے سے استثنیٰ دینے کے معاہدہ پر بھی دستخط کیے گئے۔

پاکستان اور تھائی لینڈ کی مشترکہ تجارتی کمیٹی کا افتتاحی اجلاس بدھ کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ پاک تھائی لینڈ مُشترکہ تجارتی کمیٹی کے اجلاس میں دو طرفہ تجارت کے فروغ سمیت اقتصادی امور پر تبادلہ خیال ہو گا اور دو طرفہ تجارت میں اضافے کے لیے دونوں ممالک کے درآمد کنندگان و برآمد کنندگان کو درپیش مشکلات کا جائزہ لے کر انھیں دور کرنے کے لیے تجاویز پیش کی گئیں۔ ادھر پاکستان اور نیپال میں آزادانہ تجارتی معاہدے، متبادل توانائی، زراعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں تعاون بڑھانے پراتفاق رائے ہو گیا ہے، پاکستان نے نیپال کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدے کا مسودہ اور متبادل توانائی کے ذرایع میں تعاون کے فروغ کے ایم او یو کے مسودے کی کاپی نیپالی وفد کے حوالے کر دی ہے۔

پاکستان، نیپال مُشترکہ اقتصادی کمیشن کے چھٹے اجلاس کے اختتام کے بعد اپنے نیپالی ہم منصب شینکر پرسادکوئیرالا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ مشترکہ بزنس کونسل کو دوبارہ متحرک کرنے اور سارک ممالک کے درمیان تجارت میں حائل رکاوٹوںکو دورکرنے پر اتفاق کیا گیا ہے، کمیشن اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ دونوں ممالک کی کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے مرکزی بینکوںکے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جائیں گے، دونوں ملکوں کے درمیان زرعی شعبے میںتعاون کے لیے یہ فیصلہ کیا گیاکہ مشترکہ ورکنگ گروپ کا 2 روزہ اجلاس اسلام آباد میں28 اگست کو بلایا جائے گا۔

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے دوست اور ہمسایہ ممالک اور سارک ممالک کے ساتھ اقتصادی روابط مزید مضبوط ہونے چاہئیں۔ چنانچہ یہ اطلاع بھی خوش آیند ہے کہ پاکستان اور نیپال میںآزادانہ تجارتی معاہدے، متبادل توانائی، زراعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں تعاون بڑھانے پراتفاق رائے ہو گیا ہے، اپنے نیپالی ہم منصب شنکر پرسادکوئیرالا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈارنے کہا کہ مشترکہ بزنس کونسل کو دوبارہ متحرک کرنے اور سارک ممالک کے درمیان تجارت میں حائل رکاوٹوںکو دور کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے، امید کی جانی چاہیے کہ تھائی لینڈ سے معاشی معاہدوں اور دو طرفہ تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کی مانیٹرنگ کا موثر نظام قائم کیا جائے گا تا کہ خطے کے اہم ملکوں سے اقتصادی تعلقات کا دونوں ملکوں کے عوام کو یکساں فائدہ پہنچے۔