زہریلی کچی شراب سپلائی کرنیوالا ملزم اور اس کی پڑوسن گرفتار

گرفتار ملزم دلبر بنگالی اس سے قبل 2007 میں زہریلی شراب پینے سے ہلاکتوں کے مقدمے میں گرفتار ہو چکا ہے۔


Staff Reporter August 22, 2013
ڈی ایس پی محمود آباد طارق مغل نے بتایا کہ گرفتار خاتون بھی مرکزی ملزم کے ساتھ شامل جرم ہے اور دونوں ملزمان ایک ہی محلے کے رہائشی ہیں۔ فوٹو: ساجد رؤف/ ایکسپریس

محمود آباد پولیس نے کچی شراب پینے سے ہونے والی ہلاکتوں کے واقعے میں ملوث مرکزی ملزم کو اسکی پڑوسن سمیت گرفتار کر لیاجبکہ ایکسائز پولیس اہلکار سمیت5 ملزمان مفرور ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ڈی ایس پی محمود آباد طارق مغل نے محمود آباد تھانے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ محمود آباد انویسٹی گیشن پولیس نے گزشتہ دنوں کچی شراب پینے سے ہونے والی ہلاکتوں کے واقعے کے ملوث مرکزی ملزم دلبر حسین عرف ولاور بنگالی کو خواجہ اجمیر نگری تھانے کی حدود میں زرینہ کالونی کے قریب واقع عمر گوٹھ کے ایک مکان سے گرفتار کر لیا، گرفتار ملزم کے قبضے سے جعلی پستول ، پاسپورٹ ، قومی شناختی کارڈ اور شراب کی بوتلیں برآمد کی گئی ہیں، انھوں نے بتایا کہ محمود آباد انویسٹی گیشن پولیس نے نجمہ وہاب نامی خاتون کو بھی اعظم بستی سے گرفتار کیا ہے اور خاتون کی گرفتاری موبائل فون کا لز ٹریس کے ذریعے عمل میں لائی گئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ گرفتار خاتون بھی مرکزی ملزم کے ساتھ شامل جرم ہے اور دونوں ملزمان ایک ہی محلے کے رہائشی ہیں، گرفتار ملزم دلبر حسین عرف ولاور بنگالی نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ اس کا پڑوسی زبیر نامی شخص اسے کچی شراب رکشا میں لا کر دیا کرتا تھا اور وہ 250 روپے سے لے کر300 روپے میں فروخت کیا کرتا تھا انھوں نے بتایا کہ گرفتار مرکزی ملزم زبیر کے گھر میں اپنی شراب اسٹاک کیا کرتا تھا ، کچی شراب زبیر کو ریکسر لائن ، گارڈن اور جناح اسپتال کے عقب میں واقع مدراسی پاڑا سمیت دیگر علاقوں سے ملا کرتی تھی۔



گرفتار ملزم جوئے کا اڈا چلانے اور دیگر جرائم میں بھی ملوث ہے، ناصر عرف بوس دلاور بنگالی کا پارٹنر ہے جو تاحال مفرور ہے، پولیس پارٹی نے جناح اسپتال کے عقب میں واقع مدراسی پاڑے میں بھی چھاپہ مارا تاہم وہاں موجود ملزمان روبن ، پشپا اور اینتھونی فرار ہو گئے،پولیس نے مدراسی پاڑے سے بڑی تعداد میں کچی شراب اور دیگر سامان برآمد کر لیا، مدراسی پاڑے سے فرار ہونے والے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں،کچی شراب کی فروخت میں کیماڑی کے رہائشی ایکسائز پولیس کا اہلکار جاوید بھی ملوث ہے اور اسی نے مرکزی ملزم دلبر بنگالی کو فرار ہونے کا مشورے دیا تھا ۔

گرفتار ملزم دلبر بنگالی اس سے قبل 2007 میں زہریلی شراب پینے سے ہلاکتوں کے مقدمے میں گرفتار ہو چکا ہے تاہم عدم ثبوت کی بنا پر رہاکردیا گیا تھا ، پریس کانفرنس کے موقع پر ایس آئی او چوہدری سعید اور ایس ایچ او محمود آباد سرور کمانڈو بھی موجود تھے ، واضح رہے کہ 9 اگست سے 11 اگست کے درمیان محمود آباد میں کچی شراب پینے سے2 درجن کے قریب افراد ہلاک اور متعدد افراد بے ہوش ہو گئے تھے۔