سینیٹ کمیٹی کی سیڈ ایکٹ اسمبلی سے منظور کرانے کی سفارش

وزارت سے کھاد پیداکرنے والی فیکٹریوں کی پیداواری لاگت اورفروخت کی تفصیلات طلب


Numainda Express August 22, 2013
وزارت سے کھاد پیداکرنے والی فیکٹریوں کی پیداواری لاگت اورفروخت کی تفصیلات طلب. فوٹو: فائل

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈسیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے پاکستان کاٹن کمیٹی کو وزارت ٹیکسٹائل سے واپس لے کروزارت خوراک وزراعت کو دینے،10سال سے تاخیرکاشکار قومی سیڈ ایکٹ کی قومی اسمبلی سے منظوری کی سفارش کرتے ہوئے نیشنل فوڈسیکیورٹی پالیسی کی جلد تکمیل اوراس میں کسانوں کو بجلی اور کھادوں میں سبسڈی دینے کی سفارش کی ہے۔

کمیٹی نے یوریا کھادکی پیداوار پرلاگت اورفروخت کے حوالے سے وزارت سے تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔کمیٹی اجلاس بدھ کو مظفر حسین شاہ کی صدارت میںہوا، اجلاس میںبتایاگیاکہ ملک کی 60 فیصد آبادی کو صاف اورشفاف خوراک میسرنہیںجبکہ 30 فیصد آبادی صاف خوراک کی عدم فراہمی کیوجہ سے مختلف بیماریوں کا شکارہے۔ حکام نے بتایاکہ نیشنل فوڈسیکیورٹی پالیسی مرتب کی جارہی ہے جوابھی تک مراحل میں ہے۔



وفاقی وزیرسکندرحیات بوسن نے کمیٹی کوآگاہ کیاکہ اگرگیس کے نظام کوبند اورکھادبنانے والی فیکٹریوںکوبلاتعطل گیس فراہم کی جائے توپاکستان یوریا کھاد اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعدایکسپورٹ بھی کر سکتا ہے۔ سینیٹر سیدہ صغریٰ امام نے انکشاف کیاکہ پاکستان میں یوریا کھاد کے بندبیگ کی پیداوارپر 450روپے لاگت آتی ہے لیکن اسکو 1700روپے میںفروخت کیاجا رہاہے جس پر کمیٹی نے وزارت کے حکام سے ملک بھر میں کھاد پیدا کرنیوالی فیکٹریوں اورکارخانوںسے کھادکی پیداوارپرلاگت اور اسکی فروخت کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں طلب کر لیں۔