قومی ادارہ امراض قلب میں بچوں کا آئی سی یو قائم

قومی ادارہ امراض قلب اندرون سندھ میں اپنے مراکز جلد قائم کریگا، افتتاحی تقریب سے وزیرصحت اویس مظفر کاخطاب


Staff Reporter August 24, 2013
قومی ادارہ برائے امراض قلب کی گولڈن جوبلی تقریبات کے افتتاح کے موقع پر صوبائی وزیر صحت سید اویس مظفر، صوبائی وزیر دیا رام، سیکریٹری صحت جام انعام اللہ دھاریجو اور ڈاکٹر شاہ زمان قومی ترانے کے احترام میں کھڑے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

KARACHI: صوبائی وزیر صحت سید اویس مظفر نے کہا ہے کہ حکومت مریضوں کو علاج ومعالجے کی ہر ممکن سہولتیں فراہم کررہی ہے۔

قومی ادارہ برائے امراض قلب ملک کا سب سے بڑا دل کا اسپتال ہے جہاں ملک بھر سے آنیوالے مریضوں کا علاج کیاجاتا ہے، قومی ادارہ برائے امراض قلب میں 40 بستروں پرمشتمل جدید کارڈیالوجی وارڈ اور پیڈیا ٹرک آئی سی یو قائم کردیا گیا ہے، قومی ادارہ امراض قلب میں ایک ارب روپے مالیت سے بچوں کے دل کی سرجری کا اسپتال بھی قائم کرینگے، یہ بات انھوں نے جمعہ کواسپتال کی گولڈن جوبلی تقریبات اور وارڈز کی افتتاحی تقریب کے موقع پرخطاب میں کہی، اس موقع پر اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر خان شاہ زمان، سیکریٹری صحت انعام اللہ دھاریجوسمیت دیگر افسران بھی موجود تھے، وزیر صحت نے کہا کہ قومی ادارہ امراض قلب اندرون سندھ میں ایس آئی یو ٹی کی طرز اپنے مراکز قائم کریگی، سیکریٹری صحت انعام اللہ دھاریجو نے کہا کہ حکومت سندھ عوام کو علاج و معالجے کی ہر ممکن سہولتیں فراہم کرنے کیلیے کوشاں ہے۔



اسپتال کے ایگزیکٹوڈائریکٹر پروفیسر خان زمان نے کہا کہ اسپتال 1963میں قائم ہوا تھا جس کو 50 سال مکمل ہو گئے ہیں، این آئی سی وی ڈی میں روزانہ او پی ڈی میں تقریبا 1500 اور شعبہ ایمرجنسی میں 500 سے زائدمریض آتے ہیں جو دل کی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں ان میں سے 80 سے 100 مریض روزانہ داخل ہوتے ہیں، پروفیسر خان شاہ زمان نے بتایا کہ 40 بستروں کا نیا وارڈ مخیر حضرات کے تعاون سے قائم کیا گیا ہے جبکہ اسپتال کے فرش کی مرمت کرائی جا رہی ہے، پروفیسر شاہ زمان نے بتایا کہ انھوں نے اسپتال کو توسیع دیکر بستروںکی گنجائش بڑھانے کیلیے حکومت سندھ کو پی سی ون بھیج دیا ہے جو امید ہے جلد منظور ہو جائیگا۔

پورے ملک میں اس وقت صرف 5 پیڈیاٹرک کارڈیالوجسٹ اور 4 پیڈیاٹرک سرجنز ہیں ان کی تعداد بھی بڑھانے کی ضرورت ہے، بچوں کے دل کے امراض کے خصوصی علاج کیلیے این آئی سی وی ڈی میں پیڈیاٹرک کارڈیک سرجری انسٹی ٹیوٹ بھی بنایا جارہا ہے، دل کی بیماریوں کا علاج مہنگا ہے اور مزید اسپتال بنانے سے بہتر ہے کہ بیماریوں سے بچاؤکی آگاہی دی جائے جس سے 15 تا 20 فیصد شرح اموات میں کمی لائی جا سکتی ہے، انھوں نے بتایا کہ مستقبل قریب میں دل کی بیماریوں سے بچاؤ کا منصوبہ ''پرائمری پریوینشن'' بھی شروع کیا جائیگا جس میں عوام اور خصوصاً مریضوں کے اہل خانہ کو تعلیم اور آگاہی دی جائیگی کہ وہ اپنا طرز زندگی بدلیں، سادہ کھانا کھائیں اور ورزش کو معمول بنائیں۔