آصف کو نجی کمپنی نے 20 لاکھ روپے کے انعام سے نوازدیا

حکومتی سرپرستی سے محرومی پر اسنوکر ورلڈ چیمپئن کی مدد کا فیصلہ کیا، ندیم عمر


Sports Desk August 27, 2013
کراچی: اسنوکر کے عالمی چیمپئن محمد آصف نجی کمپنی کے مالک ندیم عمر سے چیک وصول کررہے ہیں۔ فوٹو : اے پی پی

ISLAMABAD: پاکستان کے عالمی اسنوکر چیمپئن محمد آصف کے پروفیشنل سرکٹ میں کھیلنے کا خواب پورے ہونے کو ہے۔

حکومتی اعلانات کے باوجود انعامی رقوم سے محروم رہنے والے کیوئسٹ کو نجی کمپنی کی جانب سے پیر کے دن 20 لاکھ روپے کی خطیر رقم کا انعام مل گیا، آصف نے کمپنی کے مالک ندیم عمر سے چیک وصول کیا، اس موقع پرپاکستان بلیئرڈز اینڈ اسنوکر ایسوسی ایشن کے صدر عالمگیر شیخ نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں اسنوکر کیلیے تاریخی ہے، اس سے قبل کسی نے اس کھیل کیلیے ایسا اقدام نہیں کیا، آصف کو کیش ایوارڈ دینا ندیم عمر کا عظیم جذبہ اور مجھے امید ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر سے دیگر لوگ بھی ان کی تقلید کریں گے، ورلڈ چیمپئن روز روز نہیں بنتے۔



یاد رہے کہ آصف نے پروفیشنل سرکٹ میں کھیلنے کی خواہش ظاہر کی تھی، وہ شوکت علی کے بعد پاکستان کے دوسرے پروفیشنل سرکٹ کھیلنے والے پلیئر بننا چاہتے ہیں، این بی پی رینکنگ اسنوکر چیمپئن شپ کے دوران نمائندہ ''ایکسپریس ٹریبیون'' نبیل ہاشمی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں بہت جلد پروفیشنل سرکٹ میں حصہ لوں گا، یہ ورلڈ چیمپئن بننے کے بعد میرا اولین مقصد تھا لیکن مجھے اس کیلیے خاطرخواہ مدد نہیں مل پا رہی تھی،حکومتی کیش ایوارڈ بھی اب تک مجھے نہیں مل پایا، اب نجی کمپنی نے مجھے اسپانسر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

میں کھیل میں اپنی بہترین صلاحیتیں بروئے کار لاؤں گا، یہاںپر بہت سارے ایسے لوگ ہیں جن کے پاس دولت ہے لیکن وہ اسے چیمپئنز پر خرچ کرنے کا دل نہیں رکھتے، دوسری جانب آصف کو کیش ایوارڈ دینے والے ندیم عمر نے کہا کہ حکومت کے رویے پر میں نے آگے بڑھ کر پاکستانی کیوئسٹ کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا، میں نے انھیں حکومتی ایوارڈ نہ ملنے کی بابت بہت کچھ پڑھا، 2 حکومتیں بھی گذشتہ 9 ماہ میں ورلڈ چیمپئن کو اعزاز سے نوازنے میں ناکام رہیں، اگر آصف کسی دوسرے ملک میں ورلڈ ٹائٹل جیتتے تو وہ کئی اسپانسرز شپ حاصل کرچکے ہوتے لیکن جوکچھ یہاں ان کے ساتھ ہوا وہ درست نہیں تھا، مجھے امید ہے کہ آصف اپنے کیریئر کو مضبوط سے مضبوط تر بنائیں گے۔