کرتار پور راہداری پاک بھارت تکنیکی ماہرین کے درمیان عدم اتفاق

بھارت اپنی حدود سے پاکستان حدود تک پل بنانا چاہتا ہے تاہم پاکستانی حکام اس پر راضی نہیں


May 27, 2019
بھارت اپنی حدود سے پاکستان حدود تک پل بنانا چاہتا ہے تاہم پاکستانی حکام اس پر راضی نہیں ۔ فوٹو: فائل

کرتار پور راہداری کی تعمیر کے حوالے سے پاک بھارت تکنیکی ماہرین کے مابین ہونے والے تیسرے اجلاس میں دونوں ممالک مشترکہ امور پر متفق نہیں ہوسکے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور بھارت کے ٹیکنکل ماہرین کی تیسری میٹنگ کرتار پور اور ڈیرہ بابا نانک کے مابین زیرو لائن پر ہوئی۔ اجلاس میں پاکستان کی طرف سے ایف آئی اے، کسٹم، تعمیراتی کمپنی، پاکستان رینجرز پنجاب اور سروے آف پاکستان کے نمائندے شریک ہوئے جب کہ بھارت کی طرف سے نیشنل ہائی ویز انڈیا، بی ایس ایف، کسٹم اور امیگریشن کے حکام نے شرکت کی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس صرف ایک گھنٹہ جاری رہا جس میں دونوں ممالک کے نمائندوں نے ایک دوسرے کو تعمیراتی کام کی تفصیل سے آگاہ کیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کا ایجنڈا بھارت کی طرف سے ایک کلومیٹر طویل فلائی اوور کی تعمیر تھی۔

بھارت کا مؤقف ہے کہ سیلاب کے دنوں میں دریائے راوی میں طغیانی کے باعث راہداری کی سڑک متاثر ہوسکتی ہے اس لیے بھارت اپنی حدود سے پاکستانی حدود تک ایک کلومیٹر طویل فلائی اوور بنانا چاہتا ہے تاہم پاکستانی حکام اس پر رضامند نہیں ہوئے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ ممکنہ سیلاب سے بچاؤ کے لیے سڑک کے اطراف میں بند بنایا جاسکتا ہے اور سڑک کی اونچائی زیادہ رکھی جاسکتی ہے، دونوں ممالک کے مابین آئندہ اجلاس کی کوئی تاریخ بھی طے نہیں ہوسکی