نیا قانون جامعات کی خود مختاری پر حملہ ہےانجمن اساتذہ

سندھ بھرکی سرکاری جامعات کی اساتذہ انجمنوں کاہنگامی اجلاس آج طلب کرلیا گیا۔


Staff Reporter August 29, 2013
جامعات کی خودمختاری ختم کردی گئی، وائس چانسلر پرنسپل کے برابرہوگیا، اساتذہ

سندھ یونیورسٹیز (ترمیمی) بل کی قائم مقام گورنر کی جانب سے توثیق کے بعد سندھ بھرکی جامعات کے اساتذہ کا ہنگامی اجلاس آج این ای ڈی یونیورسٹی میں طلب کیا گیا ہے۔

جس میں صوبے بھر کی سرکاری جامعات اور اداروں کی اساتذہ تنظیموں کے عہدیدار شریک ہونگے ،دریں اثنا انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کی مجلس عاملہ کا ہنگامی اجلاس بدھ کوہوا جس میں بحث کے بعد اس امرکااعادہ کیا گیاکہ یہ بل قطعی طورسے جامعات کی بہتری میں نہیں ہے یہ بل جامعات کی خود مختاری پر حملہ ہے کیونکہ دنیا بھر میں جامعات کی تحقیق وتدریس ملک کی ترقی و معیشت میں اہم کرداراداکرتی ہے جامعات کی انتظامی اور علمی امور میں سیاسی مداخلت جامعات کومزید تباہی کی طرف لے جائے گی انجمن اساتذہ اس بل کومستردکرتی ہے۔



دریں اثنا سرکاری جامعات کی اساتذہ انجمنوں کی تنظیم فپواسا کے سابق عہدیدار پروفیسر بدر سومرونے کہاکہ جامعات کے ایکٹ میں ترمیم پیپلزپارٹی کے بنیادی منشورکے خلاف ہے1973 کے آئین کے بعد ذوالفقارعلی بھٹوکی ہدایت پر جامعات ایکٹ بنایا گیا تھا جس میں جامعات کو مکمل خودمختاری دی گئی تھی مگرموجودہ حکومت نے اس خودمختاری کوختم کردیا ہے اب وائس چانسلرکی حیثیت کالج پرنسپل کے مساوی ہوگی، یونیورسٹی کے اداروں سینیٹ ، سینڈیکیٹ اوراکیڈمک کونسل کی حیثیت ختم ہوگئی ہے وائس چانسلرکے مشورے کے بغیر اہم عہدوں پر تقرر اب صوبائی حکومت کرے گی جس سے کرپشن ہوگی اور پسند نا پسند اورسیاسی بنیادوں پر افسران کا تقرر ہوگا۔