قطب الدین شیخ واٹر بورڈ کے نئے ایم ڈی ہوگئے مصباح الدین فرید چیف انجینئر بلک مقرر

تبادلہ رکوانے کی مصباح الدین فرید کی کوششیں بارآور ثابت نہ ہوسکیں،نجم عالم ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ٹیکنیکل سروسز تعینات


Staff Reporter August 29, 2013
قطب الدین شیخ ماضی میں بھی منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز رہ چکے، انتظامی طور پر کمزور افسر سمجھے جاتے ہیں۔ فوٹو: فائل

حکومت سندھ نے کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر مصباح الدین فرید کا تبادلہ کرکے واٹربورڈ کے گریڈ 19 کے سینئر آفیسر قطب الدین شیخ کو نیا منیجنگ ڈائریکٹر مقرر کیا ہے۔

جبکہ مصباح الدین فرید کو منیجنگ ڈائریکٹر سے ہٹا کر چیف انجینئر بلک مقرر کیا گیا ہے، چیف انجینئر بلک اینڈ ڈبلیو ٹی ایم نجم عالم کو ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ٹیکنیکل سروسز تعینات کیا گیا ہے، مصباح الدین فرید نے اپنا تبادلہ رکوانے کی بہت کوششیں کیں تاہم ان کی یہ کوششیں بارآور ثابت نہیں ہوسکیں، مصباح الدین فرید کا دور واٹربورڈ کی تاریخ کے سیاہ ترین دور کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، اس دوران واٹربورڈ کوئی بڑا منصوبہ شروع کرنے میں ناکام رہی جبکہ ماضی میں پائپ لائن میں موجود ایس تھری اور کے فور کے منصوبے بھی عملی شکل اختیار نہیں کرسکے۔



کرپشن، بے قاعدگیوں اور انتظامی بدحالی کے حوالے سے بدترین اور شرمناک داستانیں سامنے آئیں، ان کے دور میں کراچی کے شہریوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا وہ فراہمی آب اور نکاسی آب کا عذاب بھگتتے رہے تاہم ان کے دور میں ملازمین و افسران کو ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو تنخواہوں کی ادائیگی کی ایک اچھی مثال قائم ہوئی، دوسری طرف واٹربورڈ کے نئے ایم ڈی قطب الدین شیخ ماضی میں بھی منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔

ان کے دور میں انتظامی نظم وضبط اور ادارے کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلیے ان کا کوئی قابل تحسین اور قابل رشک کردار سامنے نہیں آسکا تھا بلکہ وہ انتظامی طور پرایک کمزور آفیسر سمجھے جاتے ہیں، ان پر اقرباپروری کے حوالے سے بھی کئی الزامات ہیں اور اس سلسلے میں کئی واقعات کے واٹربورڈ کے افسران بھی گواہ ہیں، تیکنیکی اعتبار سے بھی وہ کم مہارت رکھنے والے آفیسر سمجھے جاتے ہیں، وہ ایک مشکل وقت میں واٹربورڈ کے مینجنگ ڈائریکٹر بنے ہیں اگر اب کی مرتبہ بھی انھوں نے ماضی کی طرح واٹربورڈ انتظامی وترقیاتی معاملات چلانے کی کوشش کی وہ مصباح الدیں فرید سے زیادہ ناکام ایم ڈی ثابت ہونگے۔

تیکنیکی و فنی طور پر کمزور ہونے کے باعث وہ دوسرے افسران پر انحصار کرنے پر مجبور رہتے ہیں، واٹربورڈ کے افسران نے قطب شیخ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ انتظامی وتکنیکی صلاحیتوں کی کمی کے باعث خود فیصلے کرنے سے گریز کریں اور سینئر افسران کو اعتماد میں لے کر معاملات چلائیں تو ان کے لیے بھی بہتر ہوگا اور واٹربورڈ کے لیے بھی اچھا ہوگا بصورت دیگر واٹربورڈ مذید تباہی کی طرف جائے گا۔