شہری کے قتل میں ملوث رینجرز اہلکار کو مدعی مقدمہ نے شناخت کر لیا

گواہوں کے بیانات اور جرح مکمل ہونے کے بعد انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سماعت ملتوی کردی


Staff Reporter August 30, 2013
دوسرے گواہ سہیل نے بتایا کہ جب گاڑی نے ٹکر ماری تو وہ زخمی ہوکر گر گیا تھا. فوٹو: فائل

شہری کے قتل میں گرفتار رینجر اہلکار شہزاد کو مدعی مقدمہ نے شناخت کرتے ہوئے اپنا بیان قلمبند کرادیا، ملزم کے مقدمے میں2 گواہوں کا بیان قلمبند اور جرح بھی مکمل کرلی گئی ہے۔

جبکہ مزید 4گواہوں کو آج (جمعہ کو) طلب کیا گیا ہے، جمعرات کو جیل حکام نے قتل کے الزام میں گرفتار رینجر اہلکار شہزاد کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج بشیر احمد کھوسو کے روبرو پیش کیا تھا، اس موقع پر وکیل سرکار نے مدعی عبدالسلام اور گواہ سہیل کا بیان قلمبند کرانے کیلیے عدالت میں پیش کیا، مدعی نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ4جون کو وہ اپنے کزن مقتول غلام حیدر کو اسپتال سے گھر لارہاتھا، شاہ فیصل کا لونی کے قریب اس کی گاڑی ایک موٹر سائیکل سوار سے ٹکرا گئی تھی تاہم زخمی کو انھوں نے طبی امداد فراہم کرنے کیلیے ایمبولنس میں بٹھایا۔



ایمبو لنس کے جانے کے بعد وہ گاڑی میں بیٹھے ہی تھے کہ اس کی گاری کا پچھلا شیشہ ٹوٹا، اس نے دیکھا تو عدالت میں موجود ملزم کو شناخت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہی وہ ملزم ہے جو فائرنگ کررہا تھا اور اس کا کزن غلام حیدر ہلاک ہوچکا تھا، اس کے بیان پر وکیل صفائی نے جرح کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ اس کے موکل نے اسے گاڑی سائیڈ پر لگانے کا کہا تھا اور تم نے گاڑی سائیڈ پر لگانے کے بجائے بھاگنے کی کوشش کی اور اس کے موکل نے گاڑی کے ٹائر پر گولی ماری جو غلطی سے مقتول کو لگی۔

جس پر مدعی نے انکار کیا، دوسرے گواہ سہیل نے بتایا کہ جب گاڑی نے ٹکر ماری تو وہ زخمی ہوکر گر گیا تھا، اس موقع پر رینجرز پہنچ گئی تھی تاہم وہ بے ہوش ہوگیا تھا اور جب ہوش میں آیا تو وہ اسپتال میں تھا، وکیل صفائی نے جرح کرتے ہوئے سوال کیا تھا کہ کیا گاڑی کی رفتار تیز تھی، گواہ نے کہا کہ گاڑی تیز رفتاری سے ٹکرائی تھی،گواہوں کو بیانات اور جرح مکمل ہونے کے بعد فاضل عدالت نے سماعت آج(جمعہ) تک ملتوی کردی۔