مطالبات کی منظوری کیلیے معذور افراد کا احتجاجی مظاہرہ

خصوصی افراد کو نظر انداز کیاجارہا ہے،مظاہرین، معذور کوٹے پر عملدرآمد کا مطالبہ


Numainda Express August 31, 2013
رفیق احمد نے بتایا کہ اس ملک میں معذور افراد کا کوئی پرسان حال نہیں اور وہ اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ فوٹو: شاہد علی/ ایکسپریس

سرکاری ملازمتوں میں 2 فیصد معذور کوٹے پر عملدرآمد نہ کیے جانے کے خلاف اسپشل سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن کے تحت پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

اس موقع پر آرگنائزیشن کے رہنماء رفیق احمد نے بتایا کہ اس ملک میں معذور افراد کا کوئی پرسان حال نہیں اور وہ اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے نہ صرف سراپا احتجاج بلکہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت مختلف وفاقی و صوبائی محکموں میں بھرتیوں کا اعلان کیا گیا ۔



جسکے تحت معذور افراد بھی2فیصد کوٹے پر ملازمتیں حاصل کرنے کیلیے درخواستیں متعلقہ محکموں میں جمع کرانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن محکموں کی بے حسی یہ ہے کہ وہ معذور افراد کو ترجیح دینے کے بجائے انھیں درخواستیں لیے بغیر ہی واپس کررہے ہیں جس کے باعث معذور افراد میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ انھوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے معذور کوٹہ پر عملدرآمد نہ کیے جانے کا از خود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔