40 کیمروں کی خرابی سے اہم مقامات اور شاہراہوں کی نگرانی بند ہوگئی

دہشت گردی وتخریب کاری کے شواہد ضائع ہوگئے، جرائم پیشہ خفیہ کیمروں کی خرابی کا بھرپور فائدہ اٹھانے لگے


Staff Reporter September 03, 2013
شہر کے 194مقامات پر لگے سیکیورٹی کیمرے خراب ہوگئے، آئی جی نے 3 ماہ تک کیمرے بند رہنے کا نوٹس لیکر مرمت کیلیے رقم جاری کردی۔ فوٹو: فائل

شہر کے مختلف علاقوں میں لگائے گئے 194 سیکیورٹی کیمرے 3 ماہ سے بند پڑے ہیں مرمت نہ ہونے کے سبب 40 مقامات پر لگائے گئے کئی کیمرے ناکارہ ہوگئے ہیں۔

شہر کے اہم مقامات اور شاہراہوں کی نگرانی نہیں ہوپارہی، دہشت گردی اور تخریب کاری کی وارداتوں کے بنیادی شواہد محفوظ نہیں کیے جاسکتے، دہشت گرد، خفیہ کیمروں کی خرابی کا بھرپور فائدہ اٹھانے لگے جرائم کی شرح بڑھ گئی، آئی جی سندھ نے 3 ماہ تک کیمرے بند رہنے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے کیمروں کی مرمت کے لیے فنڈز جاری کر دیے۔ تفصیلات کے مطابق شہر میں لگائے جانے والے کروڑوں روپے مالیت کے 194 کلوز سرکٹ کیمرے گزشتہ 3 ماہ سے بند پڑے ہیں۔



محکمہ پولیس کی عدم دلچسپی اور مرمت نہ کرانے کے سبب 40 مقامات پر لگائے گئے کلوز سرکٹ کیمروں میں سے اکثر کیمرے ناکارہ ہو چکے ہیں جس کے باعث ایم اے جناح روڈ سمیت کئی اہم شاہراہوں کی نگرانی کا عمل رک گیا ہے جبکہ کیمرے خراب ہونے کی صورت میں دہشت گردی کی کسی ممکنہ واردات کی صورت میں بھی اہم شواہد کو محفوظ نہیں کیا جا سکے گا، ذرائع کے مطابق کیمرے سینٹرل پولیس آفس میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم سے منسلک ہیں جہاں محکمہ پولیس کے افسران کی عدم دلچسپی اور بروقت مرمت نہ کیے جانے سے درجنوں کیمرے خراب ہوگئے۔

خرابی دور کرنے کے بجائے محکمہ پولیس نے کیمروں سے مانیٹرنگ کا نظام ہی ختم کردیا ہے،آئی جی سندھ شاہد ندیم بلوچ نے 3 ماہ سے زائد عرصے سے سیکیورٹی کیمروں کی بندش اور خرابی کی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے کیمروں کی مرمت کے لیے 70 لاکھ روپے کا فنڈ جاری کردیا ہے،کیمروں کی مرمت شروع ہوچکی ہے۔