سیاسی پیش رفت اور عوامی مسائل

اکیس روز بعد وزیر اعظم کو ایک بار پھر عدالت میں پیش ہوکر خط...


Editorial August 28, 2012
حکومتی حلقوں کی جانب سے این آر او عمل درآمد کیس میں جو اشارے مل رہے ہیں وہ امید افزاء ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اس ملنے والی میعاد میں این آر او پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے کے حوالے سے ضرور کچھ کرے گی۔ فوٹو: فائل

KARACHI: ملک کے سیاسی معاملات میں کئی طرح کی پیش رفتیں دیکھنے میں آ رہی ہیں جن کو مجموعی طور پر مثبت قرار دیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سپریم کورٹ کی طلبی پر پیر کو عدالت میں حاضر ہوئے اور سوئس حکام کو خط لکھنے کے معاملے میں کچھ مزید مہلت طلب کی جو انھیں دے دی گئی یوں یہ ایشو فی الحال بخوبی طے پا گیا ہے۔ مختلف حلقوں کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ وزیر اعظم کے عدالت میں پیش نہ ہونے کی صورت میں معاملات زیادہ پیچیدہ اور کشیدہ ہو سکتے ہیں تاہم سربراہ حکومت نے اپنے اتحادیوں سے صلاح مشورے کے بعد عدالت میں پیش ہونے کو ترجیح دی یوں ان حلقوں کے خدشات خود بخود زائل ہوگئے تاہم تاحال صورتحال کو مکمل طور پر اطمینان بخش نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اکیس روز بعد وزیر اعظم کو ایک بار پھر عدالت میں پیش ہونا ہے اور سوئس حکام کو خط لکھنے یا نہ لکھنے کے بارے میں اپنا موقف دینا ہے۔

حکومتی حلقوں کی جانب سے اس سلسلے میں جو اشارے مل رہے ہیں وہ امید افزاء ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اس ملنے والی میعاد میں این آر او پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے کے حوالے سے ضرور کچھ کرے گی کیونکہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے این آر او عمل درآمد کیس میں درمیانی راستہ نکالنے کی بات اچھی ہے' پیپلز پارٹی کو عدالتوں سے انصاف ملنے کی توقع ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم نے عدالت سے وقت برائے وقت نہیں مانگا' ہم سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے کا کوئی سنجیدہ حل نکلنا چاہیے۔ وفاقی وزیر دفاع سید نوید قمر نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت این آر او کیس میں کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ میاں منظور وٹو نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا جب کہ سندھ کے سابق وزیر داخلہ اور پیپلز پارٹی کے رہنما منظور وسان نے کہا ہے کہ اٹھارہ ستمبر کی سماعت کے بعد جو سماعت ہو گی اس کے درمیان سوئس حکام کو خط لکھنے کے معاملے میں درمیانی راستہ اختیار کیا جائے گا جو حکومت اور عدلیہ کے لیے قابل قبول ہو گا۔

یہ سارے اشارے حوصلہ افزاء ہیں کہ حکومت اس دیرینہ ایشو کو حل کرنے کے سلسلے میں سنجیدہ ہے جب کہ عدلیہ نے بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ اس ایشو کو حل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ منظور وسان نے ایک اور بڑی خوش آیند بات کی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ 18 فروری کو اسمبلی توڑ دی جائے گی اور الیکشن اگلے برس4 اپریل کو ہو گا۔ یہ بھی ایک اشارہ ہے کہ حکومت اپنی میعاد پوری کرنے کے حوالے سے نہایت پُرامید ہے اور اگر اس کی یہ امید بر آتی ہے تو اس طرح یہ پہلی حکومت ہو گی جو آزادانہ یعنی کسی آمر کی سرپرستی کے بغیر کام کرتے ہوئے اپنی آئینی میعاد پوری کرے گی جو ظاہر ہے کہ ملک میں جمہوریت کے استحکام اور فروغ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ جہاں یہ معاملات حوصلہ افزاء ہیں وہاں نئے صوبوں کے قیام کا ایشو حکومت اور اپوزیشن کے مابین ایک بار پھر وجہ تنازع بن گیا ہے۔

پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن نے اسپیکر رانا محمد اقبال کی طرف سے نئے صوبوں کے قیام کے لیے کمیشن میں نام نہ دینے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسپیکر کا گھیراؤ کر لیا' اپوزیشن اور حکومت کے اراکین کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی گئی، ایوان کی کارروائی چلانا محال ہو گیا۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ یہ معاملہ میرے اور قومی اسمبلی کے درمیان ہے اور میں اس حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی کو خط ارسال کر چکا ہوں' صرف پنجاب کے بجائے ملک بھر میں جہاں صوبوں کے قیام کی ضرورت ہے اس کے لیے قومی کمیشن بنایا جائے' نام دے دیں گے۔

حکومت اور اپوزیشن کے مابین نوک جھوک کا یہ سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا۔ اس سیاسی ہلچل میں ایک خبر بے حد سکون والی یہ ہے کہ پیر کو ہونے والے پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنمائوں کے اجلاس میں آیندہ انتخابات پر مشاورت کے دوران ایک یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ انتخابات سے قبل بجلی کے نرخ نصف کر دیے جائیں اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی 30 سے 50فیصد کمی کی جائے۔ اگر حکومت ان تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرتی ہے اور یہ چیزیں واقعی سستی ہو جاتی ہیں تو اس سے عوام کو کافی ریلیف ملے گا اور بہت سی اشیاء کی قیمتیں خود بخود کم ہو جائیں گی جس کے نتیجے میں مہنگائی کی شرح میں کچھ کمی واقع ہونے کی امید بھی پیدا ہو جائے گی تاہم ضروری ہے کہ عوام کے جذبات سے نہ کھیلا جائے' ان چیزوں کی قیمتوں میں کمی کو الیکشن اسٹنٹ کے طور پر استعمال نہ کیا جائے یعنی ان چیزوں کی قیمتیں محض ووٹ حاصل کرنے کے لیے کم نہ کی جائیں بلکہ ایسے اقدامات عمل میں لائے جائیں کہ لوگوں کو حقیقی اور مستقل ریلیف مل سکے۔

ضروری ہے کہ حکومت ملک میں کئی برسوں سے جاری توانائی کی قلت کے بحران پر قابو پانے کی منصوبہ بندی کرے' نہ صرف بجلی کی پیداوار بڑھائی جائے بلکہ اس کی بچت کے لیے بھی قابل عمل پروگرام وضع کیا جائے۔ اس زمینی حقیقت کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ بجلی کی بچت کر کے اور لائن لاسز و چوری کم کر کے بھی اس بحران پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ عوام یہ سوچنے اور توقع کرنے میں حق بجانب ہیں کہ حکومت سیاسی معاملات طے کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے مسائل حل کرنے پر بھی مناسب توجہ دے۔