تجارتی علاقوں میں کرائم مانیٹرنگ سیل کے قیام کا اعلان خفیہ کیمرے نصب ہونگے

بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ سے متاثرہ تجارتی علاقوں میں کھلی کچہری کے انعقاد کا عمل شروع کردیا جائے گا


Business Reporter August 28, 2012
سیکیورٹی ڈیوٹیز پرمعمور اہلکاروںکو عوام کی حفاظت تک محدودکرنے کی حکمت عملی مرتب کی ہے،غیرذمے دارافسران کو سزا دینگے،ایڈیشنل آئی جی۔ فوٹو: فائل

BERLANDAY/AFGHANISTAN: تجارتی وصنعتی علاقوں میں بھتہ خوری، اغوابرائے تاوان سمیت دیگر جرائم کی بیخ کنی کے لیے محکمہ پولیس صنعتی وتجارتی علاقوں کی انجمنوں کے اشتراک سے نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے کرائم مانیٹرنگ سیل کی طرز پر جدید کیمروں پر مشتمل سیل قائم کرے گا، یہ بات ایڈیشنل آئی جی سندھ اقبال محمود نے منگل کو نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے دفتر میں تاجر وصنعت کاروں سے خطاب کے دوران کہی۔

ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ شہر سے بھتہ خوری، جرائم اور قتل وغارت گری پر قابو پاکرکراچی کی رونقیں دوبارہ بحال کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور آئندہ چند ہفتوں میں محکمہ پولیس کی جانب سے بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ سے متاثرہ تجارتی علاقوں میں کھلی کچہری کے انعقاد کا عمل شروع کردیا جائے گا جس میں متاثرہ تاجروں کی شکایات وتحفظات کا فوری احاطہ کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ فی الوقت شہر کی مجموعی نفری میں سے 9 ہزاراہلکار سیکیورٹی ڈیوٹیز پر معمور ہیں جن کی تعداد گھٹا کر اب ان کی ذمے داریاں صرف عوام کی حفاظت تک محدود کرنے کی حکمت عملی مرتب کی گئی ہے اس ضمن میں پولیس کو متعدد مسائل ومشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔