پاک بحریہ کے اہلکار کا مقدمہ زیر سماعت نہیں ہے عدالت

جس تھانے نے دل پذیر کوگرفتارکیاہے اسی سے رجوع کیا جائے،پاک بحریہ کوہدایت


Staff Reporter September 04, 2013
فاضل عدالت میں کسی بھی ملزم کو پیش کیا گیا اور نہ ہی اس عدالت نے کسی بھی ملزم کاریمانڈ دیا ہے. فوٹو: فائل

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج سلیم رضا بلوچ نے اغوا برائے تاون ، پولیس مقابلہ اقدام قتل اور اسلحہ ایکٹ کے الزام میں گرفتار پاک بحریہ کے اہلکار دل پذیر اختر کے مقدمے کو ملٹری رول کے تحت ملٹری کورٹ میں چلانے سے متعلق پاک بحریہ کی درخواست نمٹادی ہے۔

منگل کو فاضل عدالت میں پاک بحریہ کی جانب سے 2 اعلیٰ افسران پیش ہوئے اس موقع پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر نے پاک بحریہ کی دائر درخواست پر کوئی اعتراض داخل نہیں کیا اور فاضل عدالت نے درخواست نمٹاتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا کہ فاضل عدالت میں کسی بھی ملزم کو پیش کیا گیا اور نہ ہی اس عدالت نے کسی بھی ملزم کاریمانڈ دیا ہے اور متعلقہ ادارے ( پولیس ) سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے جس تھانے نے اسے گرفتار یا اپنی حراست میں رکھا ہوا ہے۔



واضح رہے کہ پاک بحریہ کی جانب سے فاضل عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا تھا کہ ملٹری رول کے مطابق دلپزیر کا مقدمہ ملٹری کورٹ میں چلانے کا قانون ہے اور سولین کورٹ کو کیس چلانے کا اختیار نہیں درخواست میں فاضل عدالت میں مقدمہ نہ چلانے کی درخواست کی تھی۔