پولیس جامعہ اردو کے طالبعلم کے قاتلوں کو گرفتار کرنے میں ناکام ملزمان کی اہلخانہ کو دھمکیاں

فیوچر کالونی میں معمولی جھگڑے کے دوران چھری کے وار سے نوید عالم کو قتل کردیا گیا تھا


Staff Reporter September 04, 2013
مقتول صحافت میں آنا چاہتا تھا،احتجاج کے بعد پولیس نے مجبوراً ایف آئی آر درج کی، وزیراعظم اور چیف جسٹس انصاف فراہم کریں،والد ۔ فوٹو : فائل

شرافی گوٹھ انویسٹی گیشن پولیس ڈیڑھ ماہ قبل جھگڑے کے دوران چھری کے وار سے قتل کیے جانے والے اردو یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے طالب علم کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم سمیت 3 ملزمان کو گرفتار نہ کر سکی، اہلخانہ کو ملزماں کی جانب سے مسلسل دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔

انھوں نے اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹے کے قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے، تفصیلات کے مطابق شرافی گوٹھ تھانے کی حدود میں20 جولائی 10 رمضان کو فیوچر کالونی میں معمولی جھگڑے کے دوران چھری کے پے در پے وار کر کے25 سالہ نوید عالم ولد محمد عالم کو قتل کردیا گیا تھا اور ملزمان فرار ہو گئے تھے، جھگڑے میں مقتول کا بھائی شعیب، محلے دار رمضان اور محمد ریاض زخمی ہو گئے تھے، مقتول کے والد محمد عالم نے ایکسپریس کو بتایا کہ ہم 45 سالوں سے کراچی میں مقیم ہیں، گھر کے قریب ان کی سبزی کی دکان ہے، انھوں نے بتایا کہ نوید کے علاوہ ان کے کسی بیٹے یا بیٹی نے اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کی،وہ رات دیر تک پڑھتا تھا اور دن میں سبزی کی دکان پر ان کے ساتھ کام کرتا تھا، اس کے علاوہ مقتول پارٹ ٹائم میں چھوٹی موٹی ملازمت بھی کیا کرتا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ نوید کی خواہش تھی وہ تعلیم مکمل کر کے شعبہ صحافت سے منسلک ہوسکے تاہم اس کی یہ خواہش پوری نہیں ہو سکی، انھوں نے بتایا کہ واقعے کے روز ان کے چھوٹے بیٹے 11 سالہ اسامہ عالم کے ساتھ شعیب نیازی نامی ملزم نے نازیبا حرکت کرنے کی کوشش کی تھی جس پر اسامہ نے اپنے بڑے بھائی شعیب عالم کو بتایا، جب شعیب عالم ملزم شعیب نیازی سے معلومات کرنے گیا تو ملزم نے مار پیٹ شروع کردی، اس وقت موقع پر موجود اہلہ محلہ نے جھگڑا ختم کرا دیا تھا۔



انھوں نے بتایا کہ اس کے بعد ان کا ایک اور بیٹا منور عالم داؤد چورنگی جانے کے لیے گھر سے نکلا تو قریب ہی گلی میں مطیع اﷲ نیازی، خیبر نیازی، عمران رینجرز والا، بلال نیازی اور شعیب نیازی پہلے سے موجود تھے، انھوں نے منور عالم کو آتے دیکھ کر ڈنڈو اور چھری کے وار سے مار پیٹ شروع کردی، نوید عالم اور شعیب عالم اپنے بھائی کو بچانے کے لیے موقع پر پہنچے تو خیبر نیازی نامی ملزم نے نوید عالم پر چھری کے پے در پے وار کر دیے جس سے وہ شدید زخمی ہوکر زمین پر گر گیا۔

اسے فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا لیکن نوید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دوران علاج دم توڑ گیا، انھوں نے بتایا کہ نوید کی میت کو سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا تو مجبوراً پولیس کو مقدمہ الزام نمبر 159/2013درج کرنا پڑا، مقدمے میں5 ملزمان مطیع اﷲ نیازی، خیبر نیازی، عمران رینجرز والا، بلال نیازی اور شعیب نیازی کو نامزد کیا گیا ہے، پولیس نے2 ملزمان بلال نیازی اور عمران رینجرز والے کو گرفتار کر لیا تھا تاہم مرکزی ملزم خبیر نیازی، مطیع اﷲ نیازی اور شعیب نیازی تاحال مفرورہیں، مقتول کے اہلخانہ نے بتایا کہ انھیں مسلسل ملزمان کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں، مقدمے میں گواہ بننے والے لوگوں کو بھی ڈرایا دھمکایا جارہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے خاندان کے کسی فرد یا گواہوں کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کا ذمے دار پولیس کو سمجھیں گے، بیٹے کے قتل میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے جبکہ پہلے سے گرفتار ملزمان کی ضمانتیں منظور نہ کی جائیں۔