ایف بی آر کی بورڈ ان کونسل کااجلاس کل طلب

آڈٹ پالیسی کی منظوری دی جائیگی، ایس اوپیز، افراد، کمپنیوں کے آڈٹ کا معیار مختلف ہوگا


Irshad Ansari September 05, 2013
ہوٹل، کھاد، بینکنگ، آٹو، پاور، فارما، سروسز، ٹیلی کام ودیگر شعبوں کی آڈٹ کے لیے نشاندہی۔ فوٹو: فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے پاور کمپنیوں، بینکوں، سیمنٹ فیکٹریوں، شوگر ملوں، ٹیکسٹائل اور سروسز سیکٹر سمیت دیگر شعبوں کے صنعتی یونٹس و ٹیکس دہندگان کے انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس آڈٹ کے لیے آڈٹ پالیسی 2012-13 کی منظوری دینے کے لیے جمعہ کو ایف بی آر کی بورڈ ان کونسل کا اجلاس طلب کرلیا۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب آڈٹ پالیسی 2012-13 کے مسودے کے مطابق ٹیکس دہندگان کے آڈٹ کا بنیادی مقصد ٹیکس چوری کے خلاف موثر ڈیٹرنس کو فروغ دینا ہے، آڈٹ کے لیے ٹیکس دہندگان کا انتخاب کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی سے ہوگا اور منتخب ٹیکس دہندگان کا پروفیشنل طریقے سے آڈٹ کیا جائیگا، ٹیکس دہندگان کو مختلف ٹیکس قوانین کے تحت الگ الگ نوٹس جاری کیے جائیں گے، ٹیکس دہندگان کے ساتھ آڈٹ کے حوالے سے تمام خط وکتابت آڈٹ ٹریل بذریعہ آٹومیٹڈ سسٹم (ٹی اے ایم ایس) کے ذریعے ہوگی، ٹیکس دہندگان کو تمام نوٹس قانونی طور پر منظوری کے بعد جاری کیے جائیں گے۔



ڈرافٹ پالیسی کے مطابق ٹیکس ایئر 2012 میں کارپوریٹ سیکٹر کے 23 ہزار 248 ٹیکس دہندگان نے گوشوارے جمع کرائے جبکہ 7 لاکھ 11 ہزار 940 ٹیکس دہندگان نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرائے۔ اس بارے میں ایف بی آر حکام نے بتایا کہ ایف بی آر کی بورڈ ان کونسل کی طرف سے مذکورہ آڈٹ پالیسی کی منظوری ملنے کے بعد پاور کمپنیوں، بینکوں، سیمنٹ فیکٹریوں، شوگر ملوں، ٹیکسٹائل اور سروسز سیکٹر سمیت دیگر شعبوں کے صنعتی یونٹس و ٹیکس دہندگان کا انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس آڈٹ شروع کیا جائیگا اور اس کے لیے نیشنل آڈٹ پلان کے تحت فیلڈ فارمشنز کو ہدایات، طریقہ کار اور دیگر قواعدو ضوابط پر مشتمل تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔

ذرائع نے بتایا کہ ایسوسی ایشن آف پرسنز، انفرادی ٹیکس دہندگان،کمپنیوں، صنعتی یونٹس اور سروسز فراہم کرنے والے اداروں کو آڈٹ کے لیے منتخب کرنے کے لیے الگ الگ معیار مقرر کیا جائیگا۔ ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی طرف سے جن شعبوں کی آڈٹ کے لیے نشاندہی کی گئی ہے ان میں ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹس، فرٹیلائزر سیکٹر، بینکنگ، آٹو موبائل، پاور کمپنیاں، سروسز سیکٹر، زرعی ادویہ، فارماسوٹیکل، بیوریجز، پیپر اینڈ پیپر بورڈ، ٹیلی کام سیکٹر، شوگر مینوفیکچررز، آئرن اینڈ اسٹیل مینوفیکچررز، لیدر، ٹیکسٹائل، الیکٹرانکس مصنوعات سمیت دیگر شعبے شامل ہیں۔