وزیر بلدیات نے غیر قانونی ہائیڈرنٹس مسمار کرنے کا حکم دیدیا

رینجرز، پولیس، ضلعی انتظامیہ اور واٹر بورڈ کی مشترکہ ٹیمیں مربوط حکمت عملی کے تحت کام کریں، سید اویس مظفر


Staff Reporter September 05, 2013
صوبائی وزیر بلدیات سیّد اویس مظفر واٹر بورڈ افسران کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس

KARACHI: سندھ کے وزیر بلدیات و صحت سید اویس مظفر نے کراچی میں قائم تمام غیر قانونی ہائیڈرنٹس کو مسمار کرنے کا حکم دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ اس ضمن میں رینجرز، پولیس، ضلعی انتظامیہ اور واٹر بورڈ کی مشترکہ ٹیمیں مربوط حکمت عملی کے تحت کام کریں۔

بدھ کو ادارہ فراہمی و نکاسی آب کے صدر دفتر کے اچانک دورے کے موقع پر ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات و صحت نے کہا کہ جن علاقوں سے غیر قانونی ہائیڈرنٹس مسمار کیے جائیں وہاں دوبارہ قائم نہیں ہونے چاہیے اور اگر ایسا ہوا تو اس کا ذمے دار متعلقہ ایس ایچ او ہو گا،انھوں نے اس ضمن میں فوری مہم کا آغاز کرنے کی ہدایت کی اور ڈپٹی کمشنر جنوبی مصطفی جمال قاضی کو ہدایت کی کہ وہ رینجرز اور پولیس کی مدد سے غیر قانونی ہائیڈرنٹس کا خاتمہ کریں، انھوں نے ایس تھری منصوبے کیلیے جاری کیے گیے70 کروڑ روپے دوسرے منصوبوں پر کام کرنیوالے ٹھکیدارو ں کو ادا کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکریٹری خزانہ کو اس معاملے کی فوری تحقیقات کرنے کی ہدایت کی،انھوں نے اس ضمن میں ادارہ فراہمی و نکاسی آب کے ایم ڈی سے بھی رپورٹ طلب کرلی۔

صوبائی وزیر بلدیات نے کہا کہ یہ ایک سنگین نوعیت کا معاملہ ہے جسے کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،صوبائی وزیر نے کراچی میں پینے کے صاف پانی کی قلت دور کرنے اور سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کے لیے ڈی سیلنیشن پلانٹس کی فزیبلیٹی بھی تیار کرنے کی جائے، صوبائی وزیر کو اس موقع پر بتایا گیا کہ ماضی میں اس ضمن میں مفاہمت کی کئی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے تھے لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہو سکا،صوبائی وزیر نے شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی قلت کی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے اس ضمن میں کے ای ایس سی اور ادارہ فراہمی و نکاسی آب کی مشترکہ کوآرڈینیشن کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی تا کہ پانی پمپ کیے جانے کے اوقات میں پمپنگ اسٹیشنوں پر لوڈ شیڈنگ نہ کی جائے اور شہریوں کو مقررہ اوقات میں پانی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔



انھوں نے محمود آباد سمیت شہر بھر میں غیر قانونی ہائیڈرنٹس میں ملوث با اثر شخصیات اور واٹر بورڈ کے عملے کی تفصیلات بھی طلب کی اور ہدایت کہ اگر واٹر بورڈ کا عملہ غیر قانونی پانی کی کنکشنز می ملوث پایا گیا تو سخت تادیبہی کارروائی کی جائے گی، انھوں نے کہا کہ واٹر بورڈ میں میرا کوئی جاننے والا نہیں، صرف کام کرنے والے افسر ہی میرے فیورٹ ہوں گے، سست اور نا اہل افسران کی حکومت کو ضرورت نہیں، اس موقع پر ایم ڈی واٹر بورڈ نے وزیر بلدیات کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے بتایا کہ واٹر بورڈ کی مالی مشکلات کو کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے، ریکوری کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں ، سرکاری اور نجی اداروں پر واٹر بورڈ کے اربوں روپے کے واجبات ہیں جبکہ گھریلو و صنعتی صارفین بھی ناد ہندہ ہیں۔

قبل ازیں صوبائی وزیر صحت نے سندھ گورنمنٹ پولیس اسپتال اور سندھ گورنمنٹ سروسز اسپتال کا اچانک دورہ کیا اور وہاں قائم مختلف شعبوں کا معائنہ کیا ، انھوں نے سندھ گورنمنٹ سروسز اسپتال میں صفائی ستھرائی کی صورت حال میں بہتری لانے کی ہدایت کی، اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کراچی میںجدید ترین ڈی این اے لیبارٹری کے قیام کے منصوبے پر کام جاری ہے جس کے بعد ڈی این اے ٹیسٹ کی سہولیات کراچی میں دستیاب ہو جائے گی اور اس کے لیے سیمپلز کو لاہور یا اسلام آباد نہیں بھیجنا پڑے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ڈنگی پر قابو پانے کے لیے کراچی میں اسپرے مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے، اس کے علاوہ محکمہ صحت ایک آگاہی مہم بھی چلا رہا ہے تا کہ عوام کو اس سے بچاؤ کے طریقوں سے آگاہ کیا جا سکے۔