اے اشرافیہ پاکستان جان کی امان پاؤں تو عرض کروں

اپنے ڈالرز کے ذخیرے کو پاکستانی روپیوں میں کنورٹ کردیجیے؛ اور ایک دو مہینے غیر ملکی اشیاء سے بھی قدرے دور رہیے


ملک کی اشرافیہ نے زندگی کے ہر رنگ میں مزے لوٹ لئے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

بس بہت جی لیے۔ اب تو لیونگ لیجنڈ بھی کہلوانے لگے۔ بہت لگژری لائف میں مزے لیے۔ اک آن بان شان پا چکے۔ بہت گیت اور کویتائیں گنگنا ڈالیں۔ دیس بدیس کا ادب پڑھ ڈالا۔ جرمن فرنچ رشین لٹریچر کھنگال لیا۔ اور ہر انَٹ شَنٹ کتابیں بھی چاٹ چکے۔ بہت معرکۃ الآرا ناول افسانے لکھ چکے۔ اسکرین پلے لکھنے میں ملکہ پایا۔ انتہائی دیدہ زیب سوانح عمریاں اور آب بیتیاں لکھیں۔ مشاہیر ادب میں خود کو امر کرچکے۔ بہت صحافیانہ مدبرانہ مزاج پایا۔ حکمت و دانش کے موتی میڈیا پر نچھاور کرکے سحر زدہ کیا۔ جغادری، بلند قامت، عبقری شناخت بنی۔ لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پر بھی ہاتھ صاف کرچکے۔ اپنی کتابوں کی رونمائی پی سی اور میریٹ میں کرچکے۔ شام پذیرائی بھی بے شمار مناچکے۔ اپنے نام کا ادبی ایوارڈ بھی لانچ کر چکے۔

سی ڈی 70 سے سٹی اور پراڈو تک کے مزے لیے۔ دو چار شادیاں بھی حسب دستور سر انجام پائیں۔ ڈاکٹر ولمار شوابے سے لے کر امپورٹڈ ''سیالس'' بھی کمرہ استراحت کی زینت بنیں۔ بچوں کو بڑے اداروں میں سربراہ بھی بنوایا۔ دنیا کے سرکاری دورے، سیر و سیاحت کرچکے۔ اعلیٰ غذا، فل باڈی مساج کروا چکے۔ محبوبہ اور بیوی کےلیے شاپنگ، امریکا و لندن کے شاپنگ مال میں کرچکے۔ فلیٹس اور جائیدادوں کی خریداری بھی جی بھر کر کرچکے۔ کیسینو میں اپنی دولت کی دھاک جما چکے۔ مکہ مدینہ کے الحاج بھی بن چکے۔ اپنے محل میں انگریزن اور فلپائنی نوکرانیوں بھی لاچکے۔ انکم ٹیکس بھی آنکھ مار کر ادا کرتے رہے۔ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹی، پلازے اور بڑے فارم ہاؤس بنا کر اب تھک چکے۔

سفید ٹوپی، ماتھے پر محراب، خیرات اور امدادی کاموں میں نمایاں ہوچکے۔ ملکی اعزازات وصول کرکے نئی نسلوں کو ایک نام اور توقیر دے چکے۔ خار زار سے مرغزار اور اقتدار کے سنگھاسن تک رسائی پاچکے۔ قہقہوں کی ارباب نشاط سے دم توڑتی انسانیت کو قبر تک اُتار چکے۔ رقص و سرود کے ساتھ کئی خوش گلو مغنیوں کو اپنے دل و حرم میں اُتارنے کا فن سیکھا۔ بگڑے نواب کی طرح نشے میں دھت اپنے مخالف کو تہہ خاک بھی اُتارا۔ دوشیزہ کا دوپٹہ اُتار کر ترس کھاتی عفیفہ کو بھی پہنایا۔

اے اشرف المخلوقات، اشرافیہ پاکستان! تو نے زندگی کے مزے ہر رنگ میں لُوٹے۔ فل انجوائے کیا۔ اس وطن عزیز میں قدرت کی تمام نعمتیں، جہاں کی آسائشیں بیوی بچوں سمیت انجوائے کیں۔ دعا ہے اللہ عزوجل آپ کو مزید عطا فرمائے۔

جان کی امان پاؤں تو ایک عرض کرنی تھی حضور والا!

ملک میں آج کل ڈالر کا ریٹ بہت بڑھ چکا ہے۔ عوام اعلیٰ طبقہ گم سم ہے۔ ڈالروں کے ذخیرہ اندوز خوشحال ہیں۔ اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کرنے والے باؤلے ہوچکے ہیں۔ اور منی چینجرز بس اب گرفتار ہوئے کہ تب ہوئے۔ اس وطن نے آپ کو شان و شوکت اور مجبور عوام کی فرماں برداری عطا کی۔ اسی وطن کی زمین نے آپ کے آباء کو دو گز جگہ دی۔ خدارا اس ملک کی معیشت کو ایک بڑا سہارا دیجیے۔ کچھ زیادہ نہیں کرنا ہے، بس اپنے ڈالرز کے ذخیرے کو پاکستانی روپیوں میں کنورٹ کردیجیے؛ اور ایک دو مہینے غیر ملکی اشیاء سے بھی قدرے دور رہیے۔ گو کہ اس سے آپ کی طبیعت گراں بار ہوگی۔ ممکن ہے اس سے آپ کے دل کی تقویت اور آنکھوں کی تراوٹ جاتی رہے۔ لیکن وہ کیا ہے کہ یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی۔

پھر حضور ایک بڑا فائدہ دیکھیے۔ اس سے آپ کے تمام گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا۔ (خاکم بدہن، مجھے معلوم ہے آپ کے کوئی گناہ نہیں۔ آپ تو ملک کے ایلیٹ طبقے کے سپیریئر لوگ ہیں۔ صدقہ خیرات اور نیکی بڑھ چڑھ کر کرتے ہیں۔ نیکی کے کام میڈیا اور سوشل میڈیا پر نمایاں نظر آتے ہیں۔ کوئی بدبخت اور کوتاہ قامت ہی اس سے بے خبر ہوگا۔ آپ اور گناہ؟ توبہ توبہ! بس ایوں ای جذباتی ہو کر منہ سے لفظ نکل گئے ہیں۔) 20 کروڑ عوام آپ کو دعا دیں گے۔

بھاگ لگے رہن! صحت دی بادشاہی ہووے!

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔