فری ہینڈ مل گیا‘ اب رزلٹ دیں

خدا کرے اس بار دہشت گردی کی تدفین کا بندوبست ہوسکے تاکہ منی پاکستان کے عوام اور اہل وطن کو قلبی سکون مل جائے۔


Editorial September 05, 2013
ڈی جی رینجرز نے450 سے زائد جرائم پیشہ افراد کی لسٹ وزیراعظم کے حوالے کردی، ان کا موقف ہے کہ اگر ان افراد کو گرفتار کرلیا جائے تو شہر سے ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے، فوٹو : فائل

کراچی میں وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد رات گئے رینجرز نے دہشت گردوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن شروع کردیا، شہر کے 8 حساس اور بدامنی کے لحاظ سے جرائم کے گڑھ علاقوں کا رینجرز نے محاصرہ کرلیا، تمام راستے سیل کرکے گھر گھر تلاشی شروع کردی گئی ہے۔ متعدد جرائم پیشہ افراد زیر حراست لیے گئے اور چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ڈی جی رینجرز نے 450 سے زائد جرائم پیشہ افراد کی لسٹ وزیراعظم کے حوالے کی ہے۔ ان کا موقف تھا کہ اگر ان افراد کو گرفتار کرلیا جائے تو شہر سے ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ یوں دہشت گردوں اور سنگین جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈائون شروع ہوتا نظر آرہا ہے تاہم بعض بنیادی نوعیت کے سوالات بھی اٹھائے جاسکتے ہیں، جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ ارباب اختیار، سیاست دانوں، شراکت داروں اور کراچی میں موجود دیگر سیاسی جماعتوں کو اس بات کا ادراک نہیں کہ آپریشن کا غلغلہ مچانے کے بعد بھی دہشت گرد، ٹارگٹ کلرز اور بھتہ خور اپنی کمین گاہوں، ٹھکانوں اور سیف ہیونز میں خاموش دبک کر بیٹھے رہے ہوں گے اور رینجرز اور پولیس کی کارروائی کا انتطار کررہے ہوں گے۔

ان کی روپوشی کی خبریں کئی روز سے چل رہی تھیں، رینجرز کے ہاتھوں لیاری گینگ کا ایک بدنام ملزم گزشتہ روز بھی بچ کر نکل بھاگا۔ تقریباً تمام خطرناک مجرم اپنے علاقے چھوڑ چکے ہیں۔ ظاہر ہے حکومت نے آپریشن کی تیاری اور اعلان میں جتنا وقت لے لیا اس عرصہ میں مجرمانہ سرگرمیوں اور شہر کی سماجی، معاشی اور سیاسی بربادی میں ملوث بڑے بڑے مگرمچھ کب کے روپوش ہوچکے ہوں گے، اس لیے کہ ابھی تک شہر کے بدنام اور گینگ وار کارندوں سمیت ان 450 سنگین جرائم میں ملوث افراد کے دندناتے پھرنے یا دیگر صوبوں میں فرار ہونے کی باتیں ہورہی ہیں۔ اب ضرورت بین الصوبائی خفیہ سراغ رسانی کی ہے تاکہ ان مجرموں کا پیچھا کیا جائے اور ان کو کہیں بھی پناہ نہ مل سکے جبھی ان کے مضبوط نیٹ ورک تہس نہس ہوسکتے ہیں، ورنہ بے نتیجہ اور لاحاصل آپریشن یا مچھر جیسی حیثیت کے حامل مجرموں کے کارندوںکو پکڑ کر میڈیا کے سامنے لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ رینجرز کو فری ہینڈ ملنے کے بعد یہ بحث بھی اب فی الحال ختم ہوچکی ہے کہ منی پاکستان کو فوج کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔

صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ کراچی کو فوج کے حوالے نہیں کرنا چاہیے بلکہ پولیس کے ذریعے جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی پر فوکس کرنا چاہیے اور رینجرز پولیس کی مدد کرے۔ وقت کا تقاضہ یہ بھی ہے کہ رینجرز اور پولیس کے درمیاں کسی قسم کی عدم ذہنی ہم آہنگی سارا کھیل برباد کرسکتی ہے۔ ان دونوں اداروں کی ساکھ دائو پر لگی ہے اور نیم دلانہ اقدامات یا آپریشن سے متعلق ادارہ جاتی تحفظات اور بدگمانی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔ عوام رزلٹ مانگیں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ جو اس کریک ڈائون کی سربراہی پر مامور ہیں، کا کہنا ہے کہ کراچی کو فوج نہیں غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے، ایسی صورت میں اب ان پر لازم ہے کہ وہ نتائج دیں۔ ماضی میں بھی نتائج نہ نکلے تو حکومتیں کمزور پڑتی رہیں، یا مصلحتوں کی چادریں اوڑھ کر سارے اسٹیک ہولڈرز لیٹ گئے جب کہ مافیاز نے خود کو منظم کیا۔ ایک خفیہ رپورٹ کے مطابق لیاری گینگ نے لشکر جھنگوی سے گٹھ جوڑ کیا ہے، اور کراچی میں القاعدہ، طالبان، جنداﷲ سمیت کئی کالعدم تنظیمیں اور ٹارگٹ کلرز اور کرائے کے قاتل سرگرم عمل ہیں۔

وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں کئی حساس فیصلے منظر عام پر بوجوہ نہیں لائے گئے جو دوران مہم عوام کو معلوم ہوجائیں گے۔ بہرحال مجرمانہ عناصر، مافیاز اور کالعدم تنظیموں سمیت ٹارگٹ کلرز، بھتہ خوروں اور فرقہ وارانہ قتل وغارت میں ملوث قانون شکن مافیائوں کا وفاق اور صوبہ سندھ کی حکومت کو سامنا ہے جو جرائم کی ایک لرزہ خیز انڈسڑی کی شکل میں ریاستی مشینری کی رٹ کو چیلنج کیے ہوئے ہیں۔ شہر میں مسلسل لاشیں گر رہی ہیں، کوئی دن منی پاکستان میں ایسا نہیں گزرتا جب لوگ قتل نہ ہوتے ہوں۔ رواں سال کے پہلے 8 ماہ میں 1900 سے زاید افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اس وحشیانہ صورتحال کا کوئی حل ضرور نکلنا چاہیے، حکومت اس بار اس ٹاسک کو ہر قیمت پر پایہ تکمیل تک پہنچائے۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے وفاقی کابینہ نے 4 کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ آئی جی سندھ کو اختیارات دیتے ہوئے یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایک مقررہ مدت کے اندر پولیس کی تنظیم نو اور اس میں تطہیر کریں کیونکہ پولیس وردی میں چھپے بعض عناصر کا دہشت گردوں، جرائم پیشہ عناصر اور مالدار لوگوں کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے۔ ان پولیس والوں کو نہ صرف ملازمت سے برطرف کیا جائے گا بلکہ انھیں گرفتار بھی کیا جائے گا۔ رینجرز کو انویسٹی گیشن اور پراسیکیوشن کے اختیارات دینے کے حوالے سے وفاقی کابینہ نے پالیسی گائیڈ لائنز کی منظوری دے دی ہے، کراچی کے ہر ضلع میں ایک ایک تھانے میں رینجرز کو انویسٹی گیشن کے اختیارات ہوں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق ملٹری اور سول انٹیلی جنس اداروں نے چند سو دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کی فہرستیں تیار کرلی ہیں۔

وفاقی کابینہ نے غیر رجسٹرڈ موبائل سمز کے خلاف فوری کارروائی کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ جرائم کی سب سے بڑی وجہ غیررجسٹرڈ سمز ہیں، جو تقریباً 40 لاکھ ہیں۔ وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ چند روز میں ایسے اقدامات کریں گے جس سے کراچی کا امن بحال ہوجائے۔ سمجھوتوں اور حیلے بہانوں کا وقت گزر چکا ہے، شہر قائد میں امن و امان سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات پر من و عن عمل ہو گا، کراچی کا امن تباہ کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، قانون نافذکرنے والے اداروںکا ایکشن اب نظر آنا چاہیے۔ خدا کرے اس بار دہشت گردی کی تدفین کا بندوبست ہوسکے تاکہ منی پاکستان کے عوام اور اہل وطن کو قلبی سکون مل جائے۔