ایران کا عالمی جوہری معاہدے کے تحت بند نیوکلیر ریکٹر دوبارہ کھولنے کا فیصلہ

عالمی قوتوں نے وعدے پورے نہ کیے تو ایران اپنے آراک ریکٹر کو بحال کرنے پر مجبور ہوجائے گا، خامنہ ای


ویب ڈیسک July 03, 2019
عالمی معاہدے کے تحت بند آراک ریکٹر کو 7 جولائی کو بحال کردیں گے۔ آیت اللہ خامنہ ای فوٹو : فائل

ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ آراک ریکٹر کو بحال کرکے ہمیں جتنی ضرورت ہوگی اُتنی مقدار میں یورینیئم افزود کریں گے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نے سرکاری ٹیلی وژن پر عوام سے اپنے خطاب میں عالمی قوتوں کے اعتراض کے باوجود یورینیئم افزودگی کے عمل کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے عالمی قوتوں کو متنبہ کیا کہ اگر ہمارے مطالبات نہ مانے اور امریکی پابندیوں کو لگام نہ دی گئی تو ایران اپنے 'آراک ریکٹر' کو 7 جولائی کے بعد سے دوبارہ بحال کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔

یہ خبر پڑھیں : ایران آگ سے کھیلنے کی کوشش میں اپنا نقصان ہی کرے گا، ٹرمپ

آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ ایران یورینیئم افزودگی کا عمل 7 جولائی کے بعد سے دوبارہ شروع کرے گا اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ایران اپنی ضرورت کو پورا کرنے کیلیے درکار مقدار حاصل نہ کرلے۔

یہ خبر بھی پڑھیں : ایران نے عالمی جوہری معاہدے کی مقررہ حد سے زائد یورینیئم پیدا کرلی

واضح رہے کہ ایران نے 2015 میں کیے گئے عالمی جوہری معاہدے کے تحت آراک ریکٹر کو بند کردیا تھا اور اقتصادی پابندیاں ہٹانے کی شرط پر 300 کلو گرام سے زائد یورینیئم افزودگی نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا تاہم امریکا کے گزشتہ برس معاہدے سے دستبردار ہونے پر ایران نے بھی معاہدے کی بعض شقوں پر عمل درآمد سے انکار کردیا تھا۔