این بی ایف سیزکیلیے متبادل مالیاتی نظام لانے کاعمل شروع

ایس ای سی پی اسٹیک ہولڈرزکی آراکی روشنی میں2مرحلوں پرمشتمل اصلاحات لائے گی


Numainda Express September 10, 2013
رپورٹ میں مستقبل کے حوالے سے پیش کی گئی ان تجاویز پر عملدرآمد مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ فوٹو: فائل

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے مالیاتی شعبے میں اصلاحات کیلیے انقلابی اقدامات تجویز کر دیے ہیں۔

ایس ای سی پی کے کمشنر اسپیشلائزڈ کمپنیز ڈویژن امتیاز حیدر نے بتایا کہ کمیشن نے مالیاتی شعبے میں بہتر نتائج کے حصول کے لیے اصلاحی اقدامات کی تجویز دی ہے اور نان بنکنگ فنانس سیکٹر کو فروغ دینے کے لیے ایک متبادل مالیاتی نظام کو اپنانے کی سفارش بھی کی ہے جو بچت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مختلف اثاثوں کی درجہ بندی فراہم کرتا ہے، ٹیکسیشن کا نظام، طویل مدتی بچتوں کی حوصلہ افزائی اور بچتوں کو خصوصی معاشی سیکٹرز میں لگانے کے لیے تجویز دی گئی ہے، یہ سفارشات عملدرآمد کے لیے زیر غور ہیں، مارکیٹ کے پیشہ ور افراد، صنعت کاروں اور مالیاتی اداروں کی ایک بڑی تعداد نے نان بینکنگ فنانس سیکٹر کے متعلق رپورٹ پر اپنی تجاویز فراہم کیں جن کی روشنی میں ایس ای سی پی نے نان بینکنگ فنانس سیکٹر کے لیے موجودہ ریگولیٹری نظام کو تبدیل کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔



ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کے حوالے سے اس سلسلے میں لائحہ عمل کی دو حصوں میں درجہ بندی کی گئی ہے، پہلے حصے پر عمل درآمد کے لیے طویل مدت کی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے کیونکہ اس کے لیے مختلف اسٹیک ہولڈرز بشمول اسٹیٹ بینک آف پاکستان، وزارت خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو وغیرہ کی رضامندی کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مختلف قوانین میں ترامیم بھی درکار ہیں، اس لیے رپورٹ میں مستقبل کے حوالے سے پیش کی گئی ان تجاویز پر عملدرآمد مشاورت کے بعد کیا جائے گا جبکہ مختصر مدتی یعنی فوری عملدرآمد والی سفارشات کو ایس ای سی پی نے خود حتمی شکل دی ہے اور اس پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے اور ضروری ترمیم شدہ فریم ورک کو عوامی مشاورت سے مکمل کرنے کے بعد اسی سال لاگو کر دیا جائیگا، یہ رپورٹ اسٹیک ہولڈرز کی آرا کے حصول کیلیے مارچ 2013 میں تیار کی گئی تھی۔