محکمہ تعلیم بغیر ٹیسٹ بھرتی اساتذہ کو ریگولائز کرنیکا فیصلہ

30 ہزار جعلی بھرتیوں میں ملوث افسران کے مقدمے نیب اوراینٹی کرپشن کے حوالے.


Staff Reporter September 10, 2013
محکمہ تعلیم کے کرپٹ افسران کے خلاف ایک تحقیقاتی کمیٹی نے بھرتیوں میں ملوث اصل افراد کو بچا لیاتھا۔ فوٹو: فائل

SIALKOT: محکمہ تعلیم سندھ نے گزشتہ سال سابق وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کے دور میں بغیر ٹیسٹ بھرتی ہونے والے اسکول اساتذہ کی ملازمتوں کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور بھرتیوں کو ریگولرائز کرنے کے لیے ڈائریکٹر اسکولز نیاز لغاری کی سربراہی میں 4 رکنی کمیٹی قائم کی ہے۔

وزیر تعلیم کے احکامات پر محکمہ تعلیم میں30 ہزار سے زائد جعلی بھرتیوں میں ملوث سابقہ 3 ڈائریکٹرز عطا اللہ بھٹو، شمس الدین دل،قاسم بلوچ،جبار ڈایو،علی اکبر شیخ،بشیر عباسی،ممتاز شیخ اور مشرف علی سمیت11 افسران کے مقدمات قومی احتساب بیورو اور اینٹی کرپشن کے حوالے کردیے گئے ہیں ان افسران کے خلاف سابق ایڈیشنل سیکریٹری تعلیم شفیق احمد کی سربراہی میں کمیٹی نے تحقیقات کی تھی جس میں بھرتیوں میں ملوث اصل افراد کو بچا لیا گیا تھا۔



کمیٹی نے اس بات کی تحقیقات نہیں کی کہ ڈائریکٹر اسکولز کے عہدے پر چار قائم مقام جونیئر افسران کیوں تعینات کیے گئے اور انھوں نے یہ بھرتیاں کس کے کہنے پر کیں اور بھرتیوں سے حاصل ہونے والی رقم کس کو ادا کی گئی، اساتذہ کے حوالے سے قائم کمیٹی کے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ کمیٹی ایک ماہ کے اندر سندھ بھر میں بھرتی ہونے والے اساتذہ کی تعلیمی اور دیگر دستاویزات کا جائزہ لے گی،کمیٹی جعلی دستاویزات کی بنیاد پر بھرتی ہونے والے تمام افراد کو فارغ اور اصل اسناد کے حامل افراد کو مستقل کرنے کی سفارش کرے گی جس کے بعد ان ملازمین کو تنخواہیں جاری ہونا شروع ہوجائیں گی۔