بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ مظاہروں کے باعث بد ترین ٹریفک جام

لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پانی کی فراہمی بھی شدید متاثر،کے ای ایس سی کی ہیلپ لائن118 غیر فعال


Staff Reporter September 11, 2013
غریب آباد کے مکین بجلی کی بندش کے خلاف سڑک بلاک کر کے احتجاج کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

کے ای ایس کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں 8 سے 10 گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات اور دقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کی جانب سے شہر میں اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے ساتھ ساتھ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ، شہر کے مختلف علاقوں میں کے ای ایس سی کی جانب سے 8 سے 10 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ سے شہری بلبلا اٹھے ، شہریوں کا کہنا ہے کہ شیڈول کے مطابق کی جانے والی لوڈشیڈنگ کے وقت میں بھی تبدیلی نے انھیں شدید پریشانی میں مبتلا کیا ہوا ہے،کے ای ایس سی کی ہیلپ لائن 118 بھی غیر فعال ہوگئی ہے ۔

جہاں کال کرنے پر کوئی جواب نہیں دیا جاتا ، کے ای ایس سی کی جانب سے نارتھ کراچی کے مختلف علاقوں ناگن چورنگی ، سرسید ٹاؤن ، آدم ٹاؤن ، لطیف نگر ، سیکٹر 10 ، سیکٹر 9 ، سیکٹر 11-B اور سیکٹر 11-A سمیت ملحقہ علاقوں میں بدترین غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے شہریوں میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے جبکہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے ساتھ اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا بھی شہری عذاب جھیل رہے ہیں اور کئی کئی گھنٹوں تک بجلی کی عدم فراہمی نے ان کے معمولات کے زندگی کو شدید متاثر کیا ہوا ہے جبکہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ان علاقوں میں پانی کی فراہمی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے اور علاقہ مکین پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں۔

غریب آباد میں12روز سے بجلی کی عدم فراہمی پر مشتعل علاقہ مکینوں نے احتجاج کرتے ہوئے سڑک پر ٹائر نذر آتش کر کے کے ای ایس سی کے خلاف نعرے لگائے،6گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے احتجاج کی وجہ سے کار ساز سے غریب آباد جانے والے راستے پر ٹریفک معطل ہوگیا اور ہزاروں گاڑیاں بدترین ٹریفک جام میں پھنس گئیں، کیماڑی گیٹ نمبر 15 کے قریب بھی مشتعل افراد نے بجلی کی عدم فراہمی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے نیٹی جیٹی پل کے قریب دھرنا دے کر ٹریفک معطل کر دیا ، ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ٹاور ایم اے جناح روڈ ، آئی آئی چندریگر روڈ ، شاہین کمپلیکس ، ایم آر کیانی روڈ ، فوارہ چوک سمیت ملحقہ علاقوں میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا۔



تفصیلات کے مطابق غریب آباد کے علاقے بندھانی کالونی اور ملحقہ علاقوں میں بجلی کی عدم فراہمی پر مشتعل افراد جس میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد موجود تھی شدید احتجاج کرتے ہوئے کے ای ایس سی کے خلاف نعرے لگائے، اس موقع پر مشتعل افراد نے ٹائر نذر آتش کیے ، مشتعل افراد کا کہنا تھا کہ12 روز سے غریب آباد اور بندھانی کالونی سمیت ملحقہ علاقوں میں بجلی معطل ہے اور کئی بار کے ای ایس سی حکام سے درخواست بھی کی گئی کہ 200 سے زائد بجلی کے بل جمع کرائے جانے کے باوجود ان کے علاقے کی بجلی کیوں بحال نہیں کی جا رہی تاہم ان کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا، مشتعل خواتین کا کہنا تھا کہ 12 روز سے جس پریشانی کے عالم میں بجلی کے بغیر علاقہ مکینوں نے دن گزارے ہیں اور آج احتجاج مجبور ہو کر دوبارہ گھروں سے باہر نکلے کوئی بھی ان کی دادرسی کے لیے نہیں آیا۔

بڑے بڑے دعویٰ ضرور کیے جاتے ہیں تاہم عملی طور پر کچھ نہیں کیا جاتا جب علاقہ مکین پریشانی کا شکار رہے کسی نے بھی ہماری مدد نہیں کی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی طور پر لاوارث اس شہر میں کوئی بھی ایسا نہیں جس میں اتنی ہمت ہو جو کے ای ایس سی کی منہ زور انتظامیہ کو لگام دے سکے اور ان سے باز پرس بھی کر سکے، مشتعل افراد نے بتایا کہ بجلی کی عدم فراہمی نے ان کے علاقے میں پانی کا بھی شدید بحران پیدا کر دیا ہے،ہنگامہ آرائی کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں کی پی ایم ٹی عدم فراہمی کی وجہ سے بند کی گئی ہے جبکہ چند روز قبل بھی بجلی کی عدم فراہمی پر علاقہ مکینوں نے احتجاج کیا تھا، اس موقع پر کے ای ایس سی کے متعلقہ دفتر کے اعلیٰ افسر معین نے پولیس کے سامنے یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر علاقہ مکین مزید کچھ بل جمع کرا دیں وہ بجلی بحال کرا دیں گے۔

جس کے بعد تقریباً 50 ہزار روپے بجلی کے بل کی مد میں جمع کرائے گئے جبکہ ابتک200سے زائد بجلی کے بل جمع کرائے جا چکے ہیں، پولیس ذرائع کا کہنا ہے کے ای ایس سی کا افسر اپنے وعدے سے مکر گیا اور وہ دفتر سے بھی غائب ہے اور اس حوالے سے کئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی، پولیس کا کہنا ہے کہ علاقہ مکینوں نے اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ کے ای ایس سی کا عملہ علاقے میں اپنا کیمپ آفس قائم کرے، کے ای ایس سی ترجمان کا کہنا ہے کہ غریب آباد کے علاقے کی بجلی عدم ادائیگی کے باعث منقطع کی گئی ہے یہاں کے مکین 3 کروڑ 10 لاکھ روپے کے نادہندہ ہیں، پی ایم ٹی پر 85 فیصد بجلی چوری کی جاتی ہے ، پولیس کا کہنا ہے کہ مشتعل افراد کو منتشر کرنے کے لیے خواتین کی موجودگی آڑے آگئی تھی جبکہ پولیس کی جانب مظاہرین کو منتشر کرنے کی پوری تیاری تھی۔

تاہم مصلحت پسندی کی وجہ سے ہنگامہ آرائی طول پکڑ گئی، بجلی کی عدم فراہمی پر شروع کی جانے والی ہنگامہ آرائی 6 گھنٹے سے زائد جاری رہی جس کی وجہ سے کار ساز روڈ ، اسٹیڈیم فلائی اوور ، اسٹیڈیم روڈ ، سوک سینٹر فلائی اوور تا غریب آباد تک بدترین ٹریفک جام ہوگیا،ٹریفک جام میں پھنسی ہوئی گاڑیوں کے مالکان گاڑی بند کر کے باہر نکل آئے اور احتجاج کے باعث بدترین ٹریفک جام پر انتظامیہ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا، ٹریفک جام کی وجہ سے سر شاہ سلیمان روڈ ، ڈالمیا روڈ ، نیو ٹاؤن ، یونیورسٹی روڈ ، شارع فیصل ، لیاقت آباد انڈر پاس ، غریب آباد انڈر پاس ، شریف آباد اور ناظم آباد تک گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔