محکمہ ڈاک میں ادویہ کی خریداری میں ایک کروڑ روپے کی خورد برد کا انکشاف

محکمے کے افسران پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی نے محکمہ ڈاک کے میڈیکل اسٹور اور ڈسپنسری کا دورہ کرکے اہم ریکارڈ قبضےمیں لےلیا


Staff Reporter September 11, 2013
محکمے کے افسران پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی نے محکمہ ڈاک کے میڈیکل اسٹور اور ڈسپنسری کا دورہ کرکے اہم ریکارڈ قبضےمیں لےلیا فوٹو: فائل

محکمہ ڈاک میں گذشتہ سال کے مالی بجٹ میں ادویہ کی خریداری میں ایک کروڑ روپے کی کرپشن کا انکشاف ہواہے۔

پاکستان پوسٹ کے افسران کی جانب اس معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں، ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس نے کراچی میں محکمہ ڈاک کے میڈیکل اسٹور اور ڈسپنسری کا دورہ کرکے اہم ریکارڈ قبضے میں لیا ہے، پاکستان پوسٹ کے ذرائع کے مطابق پاکستان پوسٹ کے مالی سال 2012-13 کے دوران ادویات کی خریداری کیلیے مختص رقم میں سے ایک کروڑ روپے افسران نے ملی بھگت کرکے ہضم کرلیے جس کے باعث محکمہ ڈاک کے میڈیکل اسٹورز میں ادویہ کی شدید قلت رہی۔



مذکورہ کرپشن کا انکشاف پاکستان پوسٹ کے افسران کو ادارے کے سالانہ آڈٹ کے دوران ہوا، آڈٹ ٹیموں کی رپورٹ کے مطابق پاکستان پوسٹ کے ریکارڈ میں جو ادویات کی خریداری ظاہر کی گئی ہیں ان میں ایک کروڑ روپے کی ادویہ کی خریداری کا ریکارڈ نہیں ہے اور ان ادویات کے لیے قانون کے مطابق ملک بھر کی ڈسپنسریوں اور میڈیکل اسٹور سے انکی ڈیمانڈ بھی طلب نہیں کی گئی اور خریداری کیلیے پاکستان پوسٹ کے سینٹرل پرکیورمنٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے ادارے کے قوانین کے ساتھ ساتھ پیپرا رولز کی بھی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق آڈٹ ٹیم کی رپورٹ کے مطابق پاکستان پوسٹ کے افسران کی جانب سے اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی گئی تاہم وفاقی سیکریٹری مواصلات ارشد بھٹی کی ہدایت پر ایک انکوائر ی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ملک بھر میں پاکستان پوسٹ کے میڈیکل اسٹور اور ڈسپنسری کا دورہ شروع کردیا ہے،تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے کراچی کے دورے کے موقع پر میڈیکل اسٹور اورڈسپنسری کا ریکارڈ بھی قبضے میں لیا گیا ہے جس کے مطابق جن دوائوں کی خریداری کراچی کے لیے ظاہر کی گئی ہے وہ کراچی نہیں بھیجی گئی اور نہ ہی کراچی کو اس کی مطلوبہ طلب کے مطابق دوائیں فراہم کی گئی ہیں۔