لنڈی کوتل چورنگی پر اہلکار ڈیزل ڈلوارہے تھے کہ حملہ ہوگیا

پولیس موبائل چند منٹ قبل ہی حیدری تھانے سے روانہ ہوئی تھی، 4 اہلکار سوار تھے، پولیس ذرائع


Staff Reporter September 12, 2013
پولیس موبائل چند منٹ قبل ہی حیدری تھانے سے روانہ ہوئی تھی، 4 اہلکار سوار تھے، پولیس ذرائع. فوٹو: فائل

حیدری تھانے کے مقتول پولیس اہلکار جس موبائل میں سوار تھے اس میں ڈیزل ختم ہو گیا تھا اور پولیس اہلکار موبائل سے نیچے اتر کر ڈیزل دلوانے کے بندو بست میں مصروف تھے کہ دہشت گردوں کا نشانہ بن گئے ۔

منگل کو لنڈی کوتل چورنگی کے قریب جس پولیس موبائل کے قریب فائرنگ کا واقعہ پیش آیا وہ چند منٹ قبل ہی حیدری تھانے سے سیفی کالج کے قریب واقع نجی کالج کے سامنے کھڑے ہونے کے لیے نکلی تھی اور پولیس موبائل میں 2 پولیس اہلکار محمد عارف ، محمد علی، ڈرائیور ایاز اور موبائل افسر اے ایس آئی ندیم اختر سوار تھے۔ موبائل نے جیسے ہی لنڈی کوتل چورنگی سے گزرتے ہوئے سی این جی اسٹیشن کے قریب پہنچی تو حسب معمول پولیس موبائل میں ڈیزل ختم ہو گیا۔



پولیس اہلکار موبائل سے نیچے اتر کر موبائل میں ڈیزل دلوانے میں مصروف تھے کہ اسی دوران موٹر سائیکل پر سوار مسلح ملزمان نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں2پولیس اہلکار زخمی اور بعدازاں اسپتال پہنچ کر دوران علاج دم توڑگئے ۔ موبائل کے ڈیوٹی افسر اے ایس آئی ندیم اختر اور ڈرائیور ایاز نے چھپ کر اپنی جانیں بچائیں۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ جس وقت فائرنگ کا واقعہ ہوا اس وقت ڈیوٹی افسر اور ڈرائیورکے پاس کسی قسم کا اسلحہ موجود نہیں تھا جسے اپنے دفاع میں استعمال کر سکتے۔