سندھ میں 40 لاکھ بچے اسکولوں سے دور ہیں وزیر اعلیٰ

پی پی حکومت نے تعلیمی معیار کوترقی یافتہ ممالک جیساکرنے کا تہیہ کیا ہوا ہے، قائم علی شاہ


Staff Reporter September 14, 2013
کاپی کلچرکے خاتمے،سرکاری اسکولوں میں طالبات کی انرولمنٹ یقینی بنانے کی ہدایت، اجلاس۔ فوٹو: فائل

وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام کوتعلیمی اداروں کی بہتری اور معیاری تعلیم کے لیے غیر معمولی اقدامات کرنے کے احکامات دیے تاکہ نئی نسل کو معیاری تعلیم دی جاسکے۔

یہ احکام انھوں نے وزیراعلیٰ ہائوس میں محکمہ تعلیم کی کارکردگی سے متعلق ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کے دوران دیے۔ امتحانات کے دوران نقل کے رحجان کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کالجوں اور اسکول کے تدریسی عملے کی معاونت سے کاپی کلچر کے سبب تعلیمی معیار پستی کا شکار ہے۔ انھوں نے متعلقہ افسران کو نقل کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات اٹھانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اگر کاپی کلچر کا خاتمہ نہ کیا گیا تومعیاری تعلیم کا حصول ناممکن ہوجائے گا۔



انھوں نے سختی سے ہدایت کی کہ غیر حاضر رہنے والے طلبا کے امتحانی فارم جمع نہ کیے جائیں اور اساتذہ اور طلباکی حاضر ی پر کڑی نظر رکھی جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 40 لاکھ بچے ابھی بھی اسکولوں سے دور ہیں، ماضی میں صوبہ سندھ کا تعلیمی معیار دیگرصوبوں سے بہتر تھا مگراس وقت ہم ان سے پیچھے ہیں، تعلیم ہماری اولین ترجیح ہے اور پی پی حکومت نے تعلیم کے معیارکو ترقی یافتہ ممالک جیسا کرنے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔انھوںنے سرکاری اسکولوں میں طالبات کی کم انرولمنٹ پر بھی اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسکولوں میں زیادہ سے زیادہ لڑکیوں کی انرولمینٹ کویقینی بنایا جائے۔