پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا معاملہ

ممکن ہے آنے والے وقت میں پٹرولیم قیمتوں پر روزانہ کی بنیاد پر نظرثانی کی جانے لگے


Editorial August 29, 2012
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا موقف تسلیم کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں پر ماہانہ نظرثانی کا سسٹم نافذ کیا جانا چاہئے۔ فوٹو: فائل

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 31 جولائی کی سطح پر واپس نہ لانے اور تیل کی قیمتوں کا تعین ماہانہ بنیاد پر کرنے کی کمیٹی کی سفارشات نظرانداز کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ واپس لینے اور قیمتوں کا تعین ماہانہ بنیادوں پر کرنے کی دوبارہ سفارش کر دی ہے۔ قائمہ کمیٹی کا یہ ردعمل بالکل فطری ہے کیونکہ جب اس کی بات ہی نہیں سنی جانی اور اس کے فیصلوں کو تسلیم ہی نہیں کیا جانا تو اس کے قیام کا کوئی مقصد ہی نہیں رہ جاتا' حکومت نے اگر یہ کمیٹیاں مسائل کے حل کے لیے بنائی ہیں تو ضروری ہے کہ ان کی پیش کردہ عوامی بہبود کی تجاویز پر عمل بھی کیا جائے یا کم از کم ان کو زیر غور ضرور لایا جائے لہٰذا ضروری ہے کہ حکومت عوامی مالی معاملات سے منسلک اس ایشو پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ہفتہ وار نظرثانی کا سلسلہ بند کر دے کیونکہ اس طرح عام آدمی کو اپنا ماہانہ بجٹ چلانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ واضح ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ماہانہ کی بنیاد پر نظرثانی کی تجویز دینے والے کے پیش نظر صرف اور صرف ایک بات تھی کہ حکومت کو حاصل ہونے والے ریونیو میں کمی بیشی نہ ہو چاہے کروڑوں لوگوں کے مالی معاملات بگڑ جائیں۔ اس پر بھی تشفی نہیں ہوئی تو یہ قیمتیں پندرہ روز کے بعد تبدیل کی جانے لگیں لیکن لگتا ہے کہ عوام کا خون نچوڑنے کے خواہش مندوں کو اس پر بھی سکون نہیں آیا تو نظرثانی کا سلسلہ ہفتہ وار کی بنیاد پر کیا جانے لگا جو عوام کے ساتھ صریح زیادتی کے مترادف ہے۔ ممکن ہے آنے والے وقت میں پٹرولیم قیمتوں پر روزانہ کی بنیاد پر نظرثانی کی جانے لگے۔ یہ ایک خود غرضی پر مبنی پالیسی ہے چنانچہ ضروری ہے کہ کمیٹی کا موقف تسلیم کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں پر ماہانہ نظرثانی کا سسٹم نافذ کیا جائے اگرچہ یہ بھی مناسب نہیں ہے اور قیمتوں میں ردوبدل کم از کم تین ماہ بعد ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر ثمر مبارک نے کمیٹی کو بتایا کہ تھرکول کے دو کنوئوں سے گیس کی پیداوار شروع ہو گئی ہے' یہ تین سال کا منصوبہ تھا جو صرف ڈیڑھ سال میں مکمل کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدگی دکھائے تو پاکستان دو سال میں بجلی برآمد کرنے والا ملک بن سکتا ہے۔ چونکہ ہمارا ملک توانائی کے شدید بحران کا شکار ہے اس لیے ضروری ہے کہ بجلی کی پیداوار کا کوئی موقع اور کوئی ذریعہ نہ چھوڑا جائے۔ قبل ازیں کالا باغ ڈیم کو بھی متنازع بنا دیا گیا تھا اب تھرکول کے بارے میں بھی ایسی ہی باتیں کی جا رہی ہیں کہ یہاں سے جو بجلی پیدا ہو گی وہ نہایت مہنگی پڑے گی جب کہ ڈاکٹر ثمر مبارک مند کا کہنا ہے کہ تھر سے 4 روپے فی یونٹ بجلی پیدا ہو گی۔

اس بارے میں حقائق واضح کرنا حکومت کی ذمے داری ہے جو پوری کی جانی چاہیے۔ عوام کو بتایا جانا چاہیے کہ تھرکول کا منصوبہ کس قدر قابل عمل ہے اور اگر اس سے لوگوں کو کچھ سہولت مل سکتی ہے تو فوری طور پر اس پر عمل درآمد شروع کر دینا چاہیے تاکہ آنے والے ماہ و سال میں ہم توانائی کی قلت پر قابو پانے اور اپنی قومی معیشت میں حسب دل خواہ ترقی کے قابل ہو سکیں۔ضروری ہے کہ توانائی پیدا کرنے کے دیگر ذرایع یعنی پانی' سورج کی روشنی اور ہوا کی طاقت استعمال کرنے کے حوالے سے بھی ٹھوس منصوبہ بندی کی جائے۔