امریکی بحریہ کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ

دہشت گردوں کا ہدف واشنگٹن میں واقع نیول سی سسٹم کمانڈ کا ہیڈکوارٹرز تھا


Editorial September 17, 2013
امریکی صدر باراک اوبامہ نے اس واقعہ کو بزدلانہ فعل قرار دیتےہوئے مذمت کی ہے:فوٹو،رائٹرز

امریکی بحریہ کے ہیڈکوارٹرز میں مسلح افراد کے حملے میں نیوی اہلکاروں سمیت 12 افراد ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوگئے، امریکی بحریہ کے اسپیشل کمانڈوز نے آپریشن کر کے ایک حملہ آورکو ہلاک کر دیا ، دوسرے کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دہشت گردوں کا ہدف واشنگٹن میں واقع نیول سی سسٹم کمانڈ کا ہیڈکوارٹرز تھا۔ امریکی میڈیا کے مطابق مقامی وقت ساڑھے 8 بجے کے قریب واشنگٹن میں امریکی بحریہ کے ہیڈ کوارٹرز پر تین مسلح حملہ آوروں نے دھاوا بول دیا،امریکی نیوی کے مطابق واشنگٹن نیوی یارڈ امریکی بحریہ کا سب سے پرانا ساحلی ٹھکانا ہے اور اسے پہلی بار 19 ویں صدی میں کھولا گیا تھا۔اگرچہ امریکی حکام اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار نہیں دیتے تاہم اس واقعے نے امریکی معاشرے میں پھیلے ہوئے اضطراب ، امریکی عوام کی جنگ سے نفرت ، فورسز میں نفسیاتی ہیجان اورامریکی شہریوں کی داخلی اور خارجی سطح پر جاسوسی ، سراغ رسانی اور ان کی ذاتی زندگی سے متعلق معلومات کے استحقاق اور متعلقہ قانون نے ہلچل مچائی ہے۔

اسنوڈن کا واقعہ ابھی تازہ ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق مقتول حملہ آور ایرون الکسیز بحریہ کا ناراض کنٹریکٹر تھا جس کی جوانی قانون شکن حرکات سے لبریز ہے، اسے قابل اعتراض حرکات اورخراب چال چلن کے باعث نوکری سے نکال دیا گیا تھا جب کہ اسے تھائی کلچر اور بدھ مت سے بڑی دلچسپی تھی۔لیکن اصل مسئلہ اور پیدا شدہ صورتحال امریکی معاشرے میں موجود ہمہ جہتی انحطاط ،بے چینی اور سامراجی مقاصد کے تحت عالمی مفادات کی جنگ زرگری کی چغلی کھاتی ہے۔ابھی تک کسی تنظیم یا انتہا پسند گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی تاہم امریکی اسٹیبلشمنٹ کو نائن الیون کے بعد سے سماجی مذہبی ،نظریاتی ،عسکری اور سیکیورٹی تناظر میں متعدد چیلنجوں کا سامنا ہے، سب سے بڑا چیلنج افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی اور القاعدہ کی امکانی دہشت گردانہ کارروائی کا ہے جب کہ شام پر حملے کے ہولناک مضمرات بھی امریکی انتظامیہ کے لیے آزمائش سے کم نہیں۔ یہ حملہ نائن الیون کی یاد منانے کے چند روز بعد کیا گیا۔اس کے محرکات پر امریکی حکام ابھی شش و پنج میں ہیں۔

امریکی صدر باراک اوباما نے فائرنگ کے اس واقعے کو بزدلانہ فعل قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا اس واقعے کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائیگا۔ امریکی فوج کو اپنی زمین پر جنگ کا سامنا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ ایک حملہ آور نے فوجی وردی جب کہ ایک نے سیاہ رنگ کا لباس پہنا ہوا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق بحریہ کے ہیڈ کواٹرز میں تین حملہ آور داخل ہوئے، ان میں ایک طویل القامت سیاہ فام بھی شامل تھا، تینوں عمارت میں مختلف جگہ پر پوزیشن لے کر فائرنگ کرتے رہے جس سے ہر طرف افراتفری مچ گئی۔اس واقعے میں ایک پولیس افسر سمیت متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ واقعے کے بعد واشنگٹن کے اس علاقے میں چھ اسکولوں کو بند کر دیا گیا۔ مسلح افراد نے ہیڈکوارٹرز کی عمارت کی چوتھی منزل سے کینٹین میں موجود افراد کو نشانہ بنایا۔

امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ تمام اہلکاروں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ محفوظ مقام پر رہیں۔ اس واقعے کے بعد امدادی اداروں کی درجنوں گاڑیاں عمارت کے گرد جمع ہوگئیں جب کہ ہیلی کاپٹروں نے علاقے کی نگرانی شروع کر دی۔ امریکی بحریہ کے حکام نے اس واقعے میں نیوی اہلکاروں سمیت آٹھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے، جب کہ متعدد زخمی ہیں، ہلاکتوں میں بھی اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ واقعے کے بعد پورے علاقے کو سیل کردیا گیا، واشنگٹن میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔اس واقعے کی چشم کشائی قابل غور ہے۔حملہ آور سخت سیکیورٹی نظام کوناکام بناکر اندر داخل ہوگئے جب کہ ہر گیٹ پر مسلح گارڈز تعینات تھے، اس سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ دہشت گردوں پر نگاہ رکھنے کے لیے کتنے بڑے پیمانہ پر نگرانی اور چوکسی کی ضرورت ہوتی ہے۔