نیٹو کنٹینرزسے اسلحے کی چوری کے شواہد نہیں ملے رمضان کمیشن

اس بات کا امکان ہے کہ ہتھیار بحری جہازوں یا لانچوں کے ذریعے لاکر منتقل کیے جائیں


Staff Reporter September 20, 2013
سپریم کورٹ میں رپورٹ،کوسٹ گارڈز نے سمندری راستے سے اسمگلنگ کی تردید کردی فوٹو: فائل

ABBOTTABAD/ ABBOTABAD: سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دیے گئے رمضان بھٹی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں قراردیا ہے کہ مختلف ایجنسیوں سے رابطے کے باوجود نیٹو کینٹنرز سے اسلحے کی چوری کے شواہد نہیں ملے ۔

تاہم 43صفحات پر مشتمل رپورٹ میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ تجارتی جہازوں کے ذریعے ملک میں اسلحہ اور بارودکراچی لایا جائے اور اسے کھلے سمندر سے لانچوں کے ذریعے باآسانی ساحلی مقامات پر پہنچادیا جائے۔ کمیشن کے مطابق ایسے 39مقامات موجود ہیں جہاں پر لانچوں کے ذریعے اسلحہ لایا جاسکتا ہے،ان میں سے صرف7مقامات پر کسٹم کی چیک پوسٹیں موجود ہیں جبکہ32مقامات سے باآسانی اسلحہ منتقل کیا جاسکتاہے۔ سابق کسٹم آفیسر رمضان بھٹی پر مشتمل یک رکنی کمیشن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پورٹ قاسم کے زیرانتظام سمندری حدود ایک مشکل اور دشوار علاقہ ہے اور سرکریک کے متنازع ہونے کے باعث بھی یہاں کی نگرانی مشکل کام ہے،یہاں سے بھی چھوٹی کشتیوں کے زریعے اسلحے کی اسمگلنگ آسان ہے۔

کسٹمز حکام کے پاس اسلحے کی اسمگلنگ روکنے کیلیے وسائل اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی انتہائی کمی ہے ۔ کمیشن نے بتایاہے گیا کہ سرکریک کے متنازع بارڈر سے بھی دشمنوں کی مداخلت کا امکان موجود ہے، دوسری جانب میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی اور کوسٹ گارڈز نے کمیشن کو اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ سمندر کے ذریعے اسمگلنگ نہیں ہورہی اور نہ ہی ایسی کوئی اطلاعات ملی ہیں۔



کوسٹ گارڈز حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ2005 میں ان سے اسمگلنگ کی روک تھام کے اختیارات واپس لے لیے گئے ہیں۔کنٹینرز کی گمشدگی میں وفاقی وزیرکی ملی بھگت سے متعلق بیان کی وضاحت کیلیے کمیشن نے ڈی جی رینجرز کو جواب کے لیے طلب کیا مگر وہ نہ آئے اور صرف تحریری جواب پر دینے پر ہی اکتفا کیا جس میں کہا گیا ہے کہ نیٹو اور کراچی میں استعمال ہونے والے اسلحے میں فرق ہے۔

ڈی جی رینجرز نے کہا کہ 30اگست کو سپریم کورٹ میں انھوں نے کسی وزیر کا نام نہیں لیا، ان کا مقصد ان کی نشاندہی کرنا تھا جو اس وقت وزارت پورٹس اینڈ شپنگ میں کرتا دھرتا تھے۔ ڈی جی رینجرز نے سپریم کورٹ کے 30 اگست کے حکم نامہ کو تبدیل کرنے سے متعلق درخواست عدالت میں جمع کرادی۔ کمیشن کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اسلحے سے بھرے جس جہاز کا ذکر کیا گیاتھا وہ ایک چینی جہازتھا جس کے ذریعے اسلحے کی کھیپ کراچی پہنچی، سمندری طوفان کے باعث راستے میں اسلحے کی پیٹیاں ٹوٹیں۔ بندرگاہ کے عملے نے کسٹمز کی نگرانی کے بغیر دوبارہ انھیں پیک کرادیا اور یہ ریکارڈ بھی نہیں بتایا گیا کہ اسلحہ کتناآیا اور اس میں سے کتنا غائب ہوا۔