چیمپئنز لیگ پاکستانی ٹیمیں کوالیفائرز تک محدود رہنے لگیں

سیالکوٹ اسٹالینز کے بعد فیصل آباد وولفز بھی مین ایونٹ میں جلوے نہ بکھیر سکی


Sports Reporter September 22, 2013
پہلی بار اس سطح کا ایونٹ کھیلنے والے کئی پلیئرز دبائوکا شکار ہوگئے، منیجر۔ فوٹو: فائل

چیمپئنز لیگ ٹوئنٹی 20میں پاکستانی ٹیمیں کوالیفائرز تک محدود رہنے لگیں، سیالکوٹ اسٹالینز کے بعد فیصل آباد وولفز بھی مین ایونٹ میں جلوے نہ بکھیر سکی۔

منیجر ہارون رشید کے مطابق پیش قدمی جاری نہ رکھنے کا افسوس ہے، پہلی بار اس سطح کا ایونٹ کھیلنے والے کئی پلیئرز دبائوکا شکار ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق فیصل آباد وولفز کو بھارت میں شیڈول چیمپئنز لیگ کوالیفائرز کے ابتدائی2مقابلوں میں شکست کی وجہ سے آگے بڑھنے کا موقع نہ مل سکا،ٹیم نے آخری غیراہم میچ میں فتح کے ساتھ اپنے مختصر سفر کا اختتام کیا، گذشتہ روز12کھلاڑی اور 8آفیشلز وطن پہنچے، اسکواڈ کی بھارت روانگی تو علامہ اقبال ایئرپورٹ سے ہوئی لیکن براستہ دبئی اور دہلی فضائی سفر کی 26 گھنٹے طوالت کے پیش نظر واپسی کیلیے واہگہ بارڈر کا روٹ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا، زمبابوے سے براہ راست دیگر کرکٹرز کو جوائن کرنے والے کپتان مصباح الحق، سعید اجمل اور احسان عادل کی پاکستان آمد بذریعہ ہوائی جہاز رات گئے شیڈول تھی۔



اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں منیجر ہارون رشید نے کہا کہ ایونٹ کے مین راؤنڈ تک رسائی نہ کرنے کا افسوس ہے، پہلی بار اس سطح کا ایونٹ کھیلنے والے کئی پلیئرز دبائو کا شکار ہوگئے، دیگر ٹیموں میں کئی انٹرنیشنل کرکٹرز شامل تھے، فیلڈنگ میں بھی مسائل رہے تاہم بھارت میں لیگ کھیلنے سے جونیئر کرکٹرز کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ حکومت اور پی سی بی کے نگران چیئرمین نجم سیٹھی پاک بھارت کرکٹ روابط کی بحالی میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں،امید ہے کہ جلد کوئی مثبت پیش رفت ہوگی، ہارون رشید نے کہا کہ فیصل آباد وولفز کی منتظمین نے اچھی میزبانی کی، چیمپئنز لیگ میں شرکت دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔