مسلم ممالک میں تعلیمی صورتحال

وائس چانسلرزفورم میں شریک اوآئی سی کےرکن ممالک کےاسکالرزنےصائب تجویزدی کہ اسلامی ممالک جامعات پرمشتمل کنسورشیم تشکیل۔۔


Editorial September 24, 2013
’’وائس چانسلرز فورم 2013‘‘ کا انعقاد ایکسپریس میڈیا گروپ کے تعاون سے کیا گیا۔ فوٹو: آئی این پی

ایکسپریس میڈیا گروپ کے تعاون سے کامسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے زیراہتمام پیر کو ''وائس چانسلرز فورم 2013''بلاشبہ تعلیم کے فروغ اور مسلم ممالک میں علمی تحقیق اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ میں اشتراک عمل شریک کے حوالے سے خوش آیند اقدام ہے۔ فورم میں شریک اوآئی سی کے رکن ممالک کے اسکالرز نے صائب تجویز دی کہ اسلامی ممالک جامعات پرمشتمل کنسورشیم تشکیل دیں،ہیومن ریسورس کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں، امریکی طرزکے فل برائٹ اسکالرشپ کا آغاز کیا جائے، طلبہ اورفیکلٹی کے تبادلے کیے جائیں،شرح خواندگی میں اضافے،غربت انتہاپسندی اور مذہبی منافرت کے خاتمے کے لیے تعلیم پرزیادہ وسائل خرچ کیے جائیں۔

وفاقی وزیرسائنس وٹیکنالوجی و کامسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے چانسلرزاہد حامد نے ''یونیورسٹیز آف اسلامک ورلڈ:چیلنجزآف انٹرنیشنلائزیشن'' کے عنوان سے اس 2 روزہ فورم کا افتتاح کیا۔ اس موقعے پر وزیرمملکت برائے تعلیم وتربیت بلیغ الرحمان ،اسلامک ایجوکیشن سائنٹیفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن کے ڈائریکٹرجنرل ڈاکٹر عبدالعزیز عثمان ، کامسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ریکٹر ڈاکٹر ایس ایم جنید زیدی اور دیگر شخصیات موجود تھیں۔وفاقی وزیر زاہد حامد نے کہا کہ اسلامی دنیا کے چانسلرز اور تعلیمی اداروں کے سربراہان مل بیٹھ کراعلیٰ تعلیم کے شعبے میں درپیش مسائل کا حل تلاش کریں،آج کے جدید دور میں محض ڈگری حاصل کرنا اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کا نام نہیں بلکہ عملی زندگی میں اس کا موثر استعمال بھی معیارکو برقرار رکھنے کی کڑی شرط ہے ۔

ممتاز عالمی ماہرین نے پاکستان سمیت مسلم ممالک میں علمی تجسس اور جدید عہد کے تقاضوں کے مطابق اعلیٰ تعلیم کے شعبے پر توجہ دے کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی بات کی کیونکہ اعلیٰ تعلیم اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے کو ترقی دے کرہی ہم جدید دنیا کے چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔آج دنیائے اسلام کو دہشت گردی،انتہا پسندی اور داخلی انتشار کا سامنا ہے، مسلم معاشرے شدید اقتصادی،سیاسی،سماجی اور فکری دبائو کا شکار ہیں،اور عالمی سامراج اسلحہ اور جنگ کا منظر نامہ سجائے ہوئے ہے۔ اس لیے اسلامی تہذیب وتمدن ،ثقافت اور فنون لطیفہ کو مغربی یلغار سے بچانے میں تعلیم ہی ممد ومعاون ثابت ہوگی۔