طالبان کا قندوز میں سیکیورٹی فورسز پر بڑا حملہ 18 اہلکار اور 35 جنگجو ہلاک

دھماکا خودکش حملہ تھا جو ہم نے کیا اور اس کی ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں، افغان طالبان


ویب ڈیسک August 31, 2019
سیکیورٹی فورسز اور طالبان کے مابین شدید لڑائی اور فائرنگ کا تبادلہ اب بھی جاری ہے، افغان میڈیا۔ فوٹو:فائل

قندوز میں سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے طالبان کے بڑے حملے میں 18 سرکاری اہلکار ہلاک اور 35 جنگجو مارے جاچکے ہیں۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان صدر اشرف غنی کے ترجمان صدیق صدیقی نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ رات ایک بجے طالبان نے شہر پر کئی سمتوں سے چڑھائی کی تھی، طالبان کے قندوز پر حملے کے بعد سرکاری فورسز سے ان کی شدید لڑائی اور فائرنگ کا تبادلہ اب بھی جاری ہے، حملے کے ساتھ ہی شہر کی بجلی معطل ہو گئی اور شہری گھروں میں محصور ہو گئے، جب کہ ٹیلی فونز اور رابطے کے دیگر ذرائع بھی معطل ہوگئے۔

افغان میڈیا کے مطابق قندوز میں ہونے والے دھماکے میں اب تک 18 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے، دھماکے میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ دھماکا خودکش حملہ تھا جو ہم نے کیا اور اس کی ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں۔

افغان وزارت داخلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان نے شہری علاقوں میں پناہ لینا شروع کر دی ہے اور کچھ شدت پسند ایک سرکاری اسپتال میں بھی داخل ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ان کے خلاف فضائی کارروائی ممکن نہیں تاہم فورسز کی محدود فضائی کارروائی اور زمینی لڑائی میں طالبان کے 35 افراد مارے گئے۔