ناکام پالیسیوں نے ہاکی کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا نویدعالم

پی ایچ ایف حکام عہدے بچانے کیلیے حکومت کو گمراہ کررہے ہیں، سابق کوچ


Sports Reporter September 28, 2013
پی ایچ ایف میں موجود عہدیداروں کو اسپورٹس سے کوئی پیار نہیں،سابق کوچ: فوٹو: فائل

سابق اولمپئن نوید عالم کا کہنا ہے کہ پی ایچ ایف عہدیداروں کی 5 سالہ ناکام پالیسیوں کی وجہ سے قومی کھیل تباہی کے دہانے پرکھڑا ہے.

ورلڈ کپ کی بانی ٹیم میگا ایونٹ کی دوڑ سے باہر ہو چکی، سینئر ٹیم کا عملاً وجود ختم ہو چکا، جونیئر ٹیم میں سنیئرز کو شامل کیا جاتا ہے لیکن وہ بھی ملائیشیا جیسی ٹیم کے ہاتھوں شکست سے دو چار ہو جاتی ہے۔ گزشتہ روز لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پی ایچ ایف میں موجود عہدیداروں کو اسپورٹس سے کوئی پیار نہیں، میوزیکل چیئر کا کھیل جاری ہے، عہدوں کو بچانے کے لیے حکومت کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ قومی ہاکی ٹیم کے سابق کوچ نے کہا کہ موجودہ ہاکی فیڈریشن انتخابات کرانے کا خیال دل سے نکال دے، پی ایچ ایف کے تحت الیکشن میں حصہ لیں گے اور نہ انتخابات ہونے دیں گے۔



انھوں نے کہا جو فیڈریشن کامن ویلتھ گیمز میں ٹیم نہیں بھیج سکتی وہ ہاکی کیلیے کیا کرے گی، صرف وزیر اعظم ہی پی ایچ ایف کے صدر کو نامزد کرسکتے ہیں اور انہی کی زیر نگرانی الیکشن میں حصہ لیں گے۔ایک سوال پر بیجنگ اولمپکس کے کوچ نے کہا کہ قومی کھیل کو اس کاکھویا ہوا مقام واپس دلانے کیلیے بریگیڈیئر عاطف ، نور خان، سعید انور، اصلاح الدین صدیقی اور سمیع اللہ جیسی شخصیات کی ضرورت ہے۔ نوید عالم نے کہا کہ میں فیڈریشن میں عہدہ لینے نہیں بلکہ پاکستانی ہاکی کی بہتری کے لیے آیا ہوں، معاملات میں بہتری آنے کے بعد واپس چلا جائوں گا۔