الزامات عائد کرنے کی پالیسی ترک کرنا ہوگی

بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے پاکستان پر الزامات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اسے دہشت گردی کا مرکز قرار دیا۔


Editorial September 29, 2013
بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے پاکستان پر الزامات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اسے دہشت گردی کا مرکز قرار دیا۔ فوٹو: اے ایف پی

بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے ہفتے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پر الزامات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اسے دہشت گردی کا مرکز قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کو ماحول بہتر بنانے کے لیے دہشت گردوں کی پشت پناہی اور فنڈنگ بند کرنا ہو گی۔ انھوں نے مقبوضہ کشمیر کو ایک بار پھر اپنا اٹوٹ انگ قرار دیا اور کہا کہ بھارت کو سرحد پار دہشت گردوں کی پناہ گاہوں سے شدید خطرات لاحق ہیں۔

ایسے وقت میں جب پاکستانی حکومت بھارت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا رہی ہے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کو روایتی پالیسی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے الزامات عائد کرنے سے گریز کرنا چاہیے تھا۔ بھارتی حکمرانوں کو اس زمینی حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے، غیر ریاستی عناصر اس کی سلامتی اور امن کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دیں اور بھاری مالی نقصان اٹھایا ہے۔ پاکستانی مسلح فورسز اب بھی اپنی جانوں پر کھیل کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے برسرپیکار ہیں۔ دہشت گرد ہماری فورسز کی چوکیوں اور قافلوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، گزشتہ دنوں پاکستانی فوج کے اعلیٰ افسران دہشت گردی کا شکار ہو گئے۔ یہی غیر ریاستی عناصر پاکستان کے بھارت سے پرامن اور دوستانہ تعلقات کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں جب بھی پاک بھارت امن مذاکرات کی بات چلتی ہے تو یہ عناصر کوئی نہ کوئی ایسی شر انگیز کارروائی کر دیتے ہیں جس سے امن مذاکرات کھٹائی میں پڑنے کے خدشات پیدا ہو جاتے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کا یہ کہنا کہ لائن آف کنٹرول پر پیش آنے والے حالیہ ناخوشگوار واقعات کے باعث نواز شریف سے میری ملاقات کا مزہ کرکرا ہو گیا ہے' دوستی اور امن کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

بھارتی حکومت بخوبی جانتی ہے کہ غیر ریاستی عناصر ہی سارے فساد کی جڑ ہیں اور پاکستانی حکومت کسی بھی طور دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی نہیں کر رہی۔ ایسے میں بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کو دوستی گریز بیانات نہیں دینا چاہیے۔ من موہن سنگھ ایک جانب کہہ رہے ہیں کہ بھارت پاکستان کے ساتھ کشمیر سمیت تمام تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے، وہ شملہ معاہدے کے تحت مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سنجیدہ ہیں دوسری جانب وہ پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کر کے معاملات کے آگے بڑھنے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔ جب تک بھارتی حکمران اپنی روایتی پاکستان مخالف پالیسی سے گریز نہیں کریں گے خطے میں امن عمل کامیاب نہیں ہو سکتا۔ علاوہ ازیں نیو یارک میں پاکستانی برادری سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو پیش کش کی کہ کنٹرول لائن پر ہونے والے واقعات کی اقوام متحدہ سے تحقیقات کروالی جائیں تاہم بھارت نے اس پیش کش کو مسترد کر دیا۔

بھارت کی شروع ہی سے یہ پالیسی رہی ہے کہ وہ کسی بھی ایشو پر پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دیتا ہے مگر اقوام متحدہ سے تحقیقات کرانے کی پیش کش پر راہ فرار اختیار کر لیتا ہے۔ بھارتی وزیراعظم کنٹرول لائن پر حالیہ ناخوشگوار واقعہ پر مزہ کرکرا ہونے کی بات تو کرتے ہیں تو انھیں اقوام متحدہ سے اس معاملے کی تحقیقات کرانی چاہیے تاکہ اصل حقائق منظر عام پر آ سکیں اور ان کا مزہ کرکرا ہونے کے بجائے دوبالا ہو سکے۔ امن مذاکرات کی بات کرنے والے بھارتی وزیراعظم کی امریکا میں دوغلی پالیسیوں کا پردہ فاش کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ لگتا ہے من موہن سنگھ میری شکایتیں لگانے اوباما کے پاس گئے تھے۔ شکایتیں معاملات بگاڑتی ہیں بناتی نہیں۔ مگر اس سب کے باوجود وزیراعظم نواز شریف نے کھلے دل سے بھارتی وزیراعظم کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تمام معاملات کو حل کریں تاکہ دونوں ممالک کے ڈیڑھ ارب لوگوں کے لیے ترقی اور خوشحالی کی راہ کھل سکے۔

پاکستان اور بھارت میں کروڑوں افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جنھیں زندگی کی بنیادی سہولتیں تک میسر نہیں۔ دونوں ممالک عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے علاقائی دشمنی کے باعث ہر سال اربوں ڈالر اسلحہ پر خرچ کر رہے ہیں۔ اگر یہی رقم ایک دوسرے کو نیچے دکھانے پر خرچ کرنے کے بجائے عوام کی فلاح و بہبود پر صرف کی جائے تو اس خطے سے غربت اور جہالت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو اسلحے کی دوڑ ختم کر کے ہر سال دفاع پر خرچ ہونے والے کھربوں روپے اپنے لوگوں کی ترقی پر خرچ کرنے چاہئیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے اپنی خارجہ پالیسی واضح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نہ تو کسی کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے دے گا اور نہ ہی وہ بھارت' افغانستان یا کسی اور کے معاملات میں مداخلت کرے گا۔ وزیراعظم نواز شریف نے اپنی حکومت کے پہلے دن ہی سے کسی بھی ملک کے حوالے سے عدم مداخلت کی پالیسی اپنانے کا عندیہ دے دیا تھا۔

وہ خطے میں امن چاہتے ہیں جب تک امن نہ ہو گا پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا خواب پورا نہ ہو گا۔ پاکستان نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے تو بھارتی حکومت کو الزام تراشی کے روایتی ہتھکنڈے ترک کرکے اس کا مثبت جواب دینا چاہیے۔ کشمیر کو بھارتی اٹوٹ انگ قرار دینے کی گردان ہی کا نتیجہ ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے مذاکرات ناکامی سے دوچار ہوتے رہے۔ اب پھر بھارتی وزیراعظم کے جنرل اسمبلی سے شکوہ خیز خطاب نے اس خدشے کو جنم دیا ہے کہ مذاکرات کا عمل نتیجہ خیز نہیں ہو گا ۔ امن عمل اور دوستانہ تعلقات بڑھانے کی پہلی شرط ہی یہ ہے کہ روایتی الزام تراشی کا سلسلہ بند کیا جائے مگر یہاں بھارتی وزیراعظم انتہا پسندوں کی زبان استعمال کر رہے ہیں۔ بھارتی حکمران بے بنیاد الزام تراشی کا سلسلہ بند کر کے امن عمل کو آگے بڑھائیں تاکہ اس خطے سے غربت جہالت اور انتہا پسندی ختم کر کے اسے امن کا گہوارہ بنایا جاسکے۔