عوام میں سول نافرمانی کے جذبات ابھر رہے ہیںسعید الزماں صدیقی

تاجروں کوبدامنی کے دلدل سے نکالنے کیلیے حل تلاش کرناہوگا، سابق چیف جسٹس


Business Reporter August 31, 2012
سابق چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی نے کہا ہے کہاداروں کی ناکامی کی صورت میں فوج اپنا آئینی کردار ادا کرسکتی ہےاور امن و امان کے قیام کی ذمے داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ فوٹو: فائل

لاہور: سابق چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی نے کہا ہے کہ کراچی کے بگڑتے ہوئے حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ تاجربرادری اورعوامی حلقے چیف جسٹس سے ازخود نوٹس لینے کی اپیل کریں، اس حوالے سے قانونی ماہرین تاجربرادری کو مشاورت دینے کیلیے تیار ہیں، یہ بات انھوں نے جمعرات کوآل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر کی قیادت میں تاجروں کے 8رکنی وفد سے ملاقات کے دوران کہی، انھوں نے کہا کہ حکومتی غفلت اور بے حسی کے باعث خوفزدہ عوام میں سول نافرمانی کی تحریک کے جذبات ابھر رہے ہیں ،

اداروں کی ناکامی کی صورت میں فوج اپنا آئینی کردار ادا کرسکتی ہے ، امن و امان کے قیام کی ذمے داری مکمل طور پر حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے، انھوں نے کہا کہ 11 اگست 1947کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے قانون ساز اسمبلی سے خطاب میں شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کو حکومت کی اوّلین ذمے داری قرار دیا تھا ،کراچی کے تاجروں کو بدامنی کے دلدل سے نکلنے کیلیے ازخود بھی کوئی حل تلاش کرنا ہوگا،

کئی دہائیوں قبل حکومت برطانیہ نے حکومت کو عوام سے ٹیکسوں کی وصولی کا اختیار امن و امان کی فراہمی سے مشروط قرار دیا تھا، عتیق میر نے سابق چیف جسٹس کو بتایا کہ شہرمیں قتل و غارگری کا سلسلہ پھر شروع ہوچکا ہے، انارکی اور شورش کے باعث کراچی میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے