جرمنی سے درآمد غیرمعیاری موبائل فون لوکیٹرزواپس

جرائم پر قابو پانے کیلیے معیاری لوکیٹرز جلد محکمہ پولیس کو فراہم کردیے جائینگے،اے آئی جی


Business Reporter August 31, 2012
جرمنی سے درآمد کیے گئے موبائل فون لوکیٹرز مطلوبہ معیار پر پورا نہ اترنے پر واپس کردیے گئے. فوٹو: فائل

KARACHI: جرمنی سے درآمد کیے گئے موبائل فون لوکیٹرز مطلوبہ معیار پر پورا نہ اترنے پر واپس کردیے گئے تاہم بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان جیسے جرائم پر فوری قابو پانے کیلیے جلد ہی مطلوبہ معیار کے لوکیٹرز درآمد کرکے محکمہ پولیس کو فراہم کردیے جائیں گے، یہ بات ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس سندھ اقبال محمود نے جمعرات کو کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری ''کاٹی'' کے ظہرانے سے خطاب کے دوران کہی،

انھوں نے ''کاٹی'' اور پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن ''پی ٹی اے'' کی جانب سے نگرانی کیلیے''نیبرہڈ واچ پروگرام'' کے آغاز کو مستحسن اقدام قرار دیتے ہوئے محکمہ پولیس کی جانب سے تعاون کے علاوہ موبائل وین اور فورس فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا، انھوں نے کہا کہ کورنگی کے صنعتی علاقے میں ٹریفک کی روانی کیلیے بھی موثر میکنزم مرتب کیا جارہا اور شاہراہ 5000 پر قائم تجاوزات آئندہ دو روز میں ختم کردی جائیں گی، کراچی میں تشدد کی بڑھتی ہوئی لہر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کی پولیس فورس کی تعداد میں کمی بھی ان حالات پر قابو پانے میں بڑی رکاوٹ ہے،

اس موقع پرکاٹی کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں بھتہ مافیا بھرپور طریقے سے سرگرم ہے اور تشویش اس امر پر ہے مافیا کی پشت پر سیاسی جماعتیں ہیں ، پولیس کی جانب سے شکایت کی جاتی ہے کہ جب بھی کوئی مجرم پکڑا جاتا ہے فوراً ہی اس کی رہائی کیلیے فون آجاتا ہے، انھوں نے مشورہ دیا کہ شہید پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کیلیے ویلفیئر ٹرسٹ قائم کیا جائے تاجر اور صنعت کار اس میں بھرپور تعاون کریں گے