بلدیہ عظمیٰ افسران کے تبادلے معمول بن گئے انتظامی ڈھانچہ تباہ

ایڈمنسٹریٹر اور میونسپل کمشنر سوک سینٹر آنے کے کچھ دیر بعد ہی چلے جاتے ہیں۔


Staff Reporter October 02, 2013
ادارے میں آئے روز تبادلوں اورغیر پیشہ ورانہ پالیسی کے باعث ادارہ عضو معطل بنتا جارہا ہے۔ فوٹو: فائل

بلدیہ عظمیٰ کے ایڈمنسٹریٹر ثاقب سومرو اور میونسپل کمشنر سمیع صدیقی کی غفلت ، لاپروائی اور غیر سنجیدگی سے بلدیہ عظمیٰ کا انتظامی ڈھانچہ تباہ ہورہا ہے۔

محکمے میں افسران کے آئے روز تبادلوں کے حوالے غیر پیشہ ورانہ پالیسی کے باعث ادارہ عضو معطل بنتا جارہا ہے، بلدیہ عظمیٰ کے افسران نے صوبائی وزیر بلدیات اویس مظفر سے اپیل کی ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں، بلدیہ عظمیٰ کے ایڈمنسٹریٹر اور میونسپل کمشنر کے عہدوں پر تعینات دونوں افسران کو فارغ کرکے ان اہم عہدوں پر سنجیدہ افسران کی تقرری کریں، باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ ایک آفیسر کو لگایا جاتا ہے کہ اس کے چند روز بعد اس کا تبادلہ کردیا جاتا ہے پھر چند روز بعد اس آفیسر کا بھی تبادلہ کردیا جاتا ہے۔



جب سے ثاقب سومرو ایڈمنسٹریٹر اور سمیع صدیقی میونسپل کمشنر کے عہدوں پر فائز ہوئے ہیں ادارے کے انتظامی امور مذاق بن گئے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ عمومی طور پر یہ دونوں افسران سوک سینٹر آتے ہی نہیں ہیں اگر کبھی آتے ہیں توکچھ دیر بعد چلے جاتے ہیں، ذرائع کے مطابق چند روزقبل آفیسر ڈاکٹر ظفر زیدی کو شکایات سامنے آنے پر سینئر ڈائریکٹر ویٹرنری کے عہدے سے ہٹایا گیا اور ان کی جگہ عمران مرزا کو اس عہدے پر تعینات کیا گیا اب منگل کو دوبارہ ڈاکٹر ظفر زیدی کو اس عہدے پر دوبارہ تعینات کردیا گیا ہے۔

بلدیہ عظمیٰ کے افسران نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آخر ڈاکٹر ظفر زیدی سے کونسی شکایات تھیں اور وہ تین روز میں کس طرح دور ہوگئی ہیں ایڈمنسٹریٹر اور میونسپل کمشنر تو اس بات کی کبھی وضاحت نہیں کریں گے تاہم صوبائی وزیر بلدیات کو یہ سوال ان دونوں افسران سے ضرور پوچھنا چاہیے، ذرائع نے بتایا کہ لینڈ ڈپارٹمنٹ میں 4 سے زائد افسران کے تبادلے ہوچکے ہیں وہاں پر تبادلہ کیے جانے والے افسران تالے توڑ کر چارج لیتے ہیں، ایسی کوئی مثال پوری کے ایم سی کی تاریخ میں نہیں ملتی،ذرائع کہنا ہے کہ کے ایم سی کے اندر اس وقت انتظامیہ نام کی کوئی چیز موجود نہیں اور ایسا لگتا ہے کہ یہ ادارہ کسی خودکار نظام کے تحت کام کررہا ہے،بلدیہ عظمیٰ کے افسران نے صوبائی وزیر بلدیات اویس مظفر سے اپیل کی ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔