بلدیاتی انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے سیکریٹری الیکشن کمیشن

سندھ وبلوچستان حکومت جماعتی جب کہ پنجاب حکومت غیرجماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کرنا چاہتی ہے، اشتیاق احمد


ویب ڈیسک October 03, 2013
خیبرپختونخواحکومت صوبے کے کچھ حصوں میں جماعتی اور کچھ میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرانا چاہتی ہے، اشتیاق احمد. فوٹو: فائل

HYDERABAD: سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہیں،تاہم تمام صوبے قوانین، حلقہ بندیوں اور قواعد کا کام مکمل کرکے دسمبر کے پہلے ہفتے میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے لئے درخواست بھیجیں گے جبکہ کمیشن کو شیڈول جاری کرنے کے لئے 30 روز درکار ہوں گے۔

قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس تصدق جیلانی کی سربراہی میں ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کے لئے اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، اجلاس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز، لوکل باڈیز کے سیکرٹریز، صوبائی الیکشن کمشنرز اور سیکریٹری داخلہ نے شرکت کی، سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان نے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کے بارے میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تمام صوبے قوانین، حلقہ بندیوں اور قواعد کا کام مکمل کرکے دسمبر کے پہلے ہفتے میں کمیشن کو بلدیاتی انتخابات کرانے کے لئے درخواست بھیجیں گے، جس کے بعد 30 روز میں کمیشن الیکشن کا شیڈول جاری کردے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ووٹرز کی تعداد ساڑھے 8 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے، عام انتخابات میں 20 کروڑ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے جبکہ بلدیاتی انتخابات کے لئے 60کروڑ بیلٹ پیپرز چھاپنے ہوں گے، جبکہ انتخابات کے لئے بیلٹ پیپر کی چھپائی اور دیگر امور کے لئے بھی کمیشن کو 30 روز درکار ہوں گے۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ سندھ اور بلوچستان جماعتی بنیادوں پر، پنجاب غیر جماعتی بنیادوں پر جبکہ خیبرپختونخواحکومت صوبے کے کچھ حصوں میں جماعتی اور کچھ میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرانا چاہتی ہے، تاہم اجلاس میں یہ فیصلہ نہ ہو سکا کہ تمام صوبوں میں بلدیاتی انتخابات ایک ساتھ ہوں گے یا پھر مرحلوں میں کرائے جائیں گے، اشتیاق احمد نے بتایا کہ اجلاس میں الیکشن کمیشن اور صوبوں کے حکام پر مشتمل کمیٹیاں بھی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا جو بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق امور کا جائزہ لیں گی ہر ضلع میں پائلٹ پروجیکٹ کریں گی، ان کا کہنا تھا کہ 22 اکتوبر کو دوبارہ ہونے والے کمیشن کے اجلاس میں یہ کمیٹیاں اپنی سفارشات دیں گی۔