بارش نے رنگ میں بھنگ ڈال دیا تیاریاں متاثر

یو اے ای میں وارم اپ میچزکے دوران کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد حتمی اسکواڈ کا انتخاب کیا جائے گا


Sports Reporter October 04, 2013
لاہور: قذافی اسٹیڈیم میں بارش کے سبب کھیل رکنے پر واٹمور اور یونس خان تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

سہ روزہ پریکٹس میچ کے دوسرے دن بارش نے رنگ میں بھنگ ڈال دیا،چیف منسٹر الیون کیخلاف چیئرمین پی سی بی الیون نے 3 وکٹ پر 197 رنز بنائے تھے کہ میدان میں پانی بھرنے پر لنچ کے بعد کھیل جاری نہ رکھا جاسکا۔

اظہر علی 88 اور اسد شفیق 46رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے۔ دوسری جانب منیجر معین خان کا کہنا ہے کہ بارش کی وجہ سے تیاریاں متاثر ہوئیں، یو اے ای میں وارم اپ میچز کے دوران کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد حتمی اسکواڈ کا انتخاب کیا جائے گا،ان کے مطابق جاری میچ میں بیٹنگ کا فلاپ ہونا تشویش کا باعث نہیں، پلیئرز بہت عرصے بعد اس نوعیت کی پچ پر کھیلے لہذا اسکور نہ کر سکے۔ تفصیلات کے مطابق قذافی اسٹیڈیم میں جاری پریکٹس میچ کے دوسرے روز کا کھیل بارش سے متاثر ہوگیا، بدھ کو ذوالفقار بابر کی تباہ کن بولنگ کے سبب صرف 90 رنز پر ڈھیر ہونے والی چیف منسٹر الیون کے بولر لنچ تک کوئی وکٹ حاصل نہیں کرسکے، اظہر علی گذشتہ روز کے اسکور 48 جبکہ اسد علی 15 کے ساتھ کریز پر آئے، دونوں نے پُراعتماد بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کا مجموعہ پہلے سیشن کے اختتام تک 197 تک پہنچایا، جس کے بعد بارش کے باعث میدان میں پانی بھر گیا، اظہر علی 88 اور اسد شفیق 46رنز پر ناقابل شکست پویلین لوٹے لیکن دوبارہ بیٹنگ کا موقع نہ مل سکا۔

ایک بجے دھوپ نکل آئی تاہم گرائونڈ اسٹاف مسلسل کوشش کے باوجود گرائونڈ کو خشک کرنے میں ناکام رہا، امپائرز نے2 بار پچ اور میدان کا معائنہ کرنے کے بعد کھیل اگلے روز تک موخر کرنے کا اعلان کردیا، ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں میچ جاری رکھنے سے کھلاڑیوں کے زخمی ہونے کا خدشہ تھا، اس لیے انہیں اکیڈمی واپس جا کر انڈور سرگرمیوں میں حصہ لینے کیلیے کہا گیا۔ امپائرز کے مطابق جمعے کو کھیل وقت سے پہلے شروع کرنے کے ساتھ میچ کے دوران وقفے بھی مختصر کردیے جائیں گے تاکہ کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ پریکٹس کا موقع مل سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کور ہٹاتے ہوئے کچھ پانی ٹرف پر گرگیا تھا جس کی وجہ سے کھیل جاری رکھنے کو خطرناک خیال کیا گیا۔



دریں اثناقذافی اسٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قومی کرکٹ ٹیم کے منیجر معین خان نے کہاکہ لاہور میں مقابلے کے دوران بارش سے تیاریاں متاثر ہوئیں،ٹیم کا اعلان یو اے ای میں پریکٹس میچ کے دوران کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کے مزید مواقع دیے جا سکیں، وہاں کارکردگی کا بغور جائزہ لینے کے بعد ہی حتمی اسکواڈ کا انتخاب کیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ بطور مینجر میرا کام انتظامی امور کی دیکھ بھال ہے، پلیئرز کا انتخاب سلیکٹرز کو ہی کرنا ہے تاہم ٹور سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کروں گا۔معین خان نے کہا کہ قذافی اسٹیڈیم میں جاری پریکٹس میچ میں بیٹنگ کا فلاپ ہونا تشویش کا باعث نہیں،ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل سطح پر عمدہ پرفارم کرنے والے بہترین کرکٹرز ممکنہ کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہیں،بیٹنگ کی ناکامی میں کبھی پچ کا بھی عمل دخل ہوسکتا ہے، بہت عرصے بعد اس نوعیت کی ٹرف پر کھیلے،میچز میں ایسا ہوجاتا ہے،اگر مجموعی طور پر تیاریاں درست سمت میں جارہی ہوں تو پریشانی والی کوئی بات نہیں ہوتی۔

انھوں نے کہا کہ دورئہ زمبابوے میں میزبان ٹیم نے ہماری توقعات سے بہتر کھیل پیش کرتے ہوئے کامیابی سمیٹی، ان کے کھیل کو ہمارے کوچ اورکپتان سمیت سب نے سراہا ہے،ایک دن کوئی ٹیم بھرپور فارم میں ہوتی تو دوسرے دن کسی اور کو بہتر کھیل پیش کرنے کا موقع مل جاتا ہے، کرکٹ میں ایسا ہوتا رہتا ہے، کھیل کے تکنیکی امور پر تو کوچ ڈیو واٹمور زیادہ بہتر بات کرسکتے ہیں تاہم ناکامی سے کھلاڑیوں نے بہت کچھ سیکھا،کوشش ہوگی کہ اپنی غلطیاں آئندہ سیریز میں نہ دہرائیں اور بہتری کی طرف جائیں،معین خان نے کہا کہ جنوبی افریقہ مضبوط حریف ہے، سیریز مشکل ہوگی، جیت کیلیے سخت محنت کرنا پڑے گی۔کسی بھی فارمیٹ میں فتح کیلیے میچ کے دن صورتحال کے مطابق کاکردگی دکھانا ضروری ہوتا ہے، اپنے کھلاڑیوں کے ٹیلنٹ پر پورا بھروسہ ہے، درست حکمت عملی کے ساتھ صلاحیتوں کے مطابق پرفارم کیا تو کامیابی حاصل ہوگی۔محمد حفیظ کی ٹیم میں شمولیت کے سوال پر انھوں نے کہا کہ ان دنوں آل رائونڈر کی فارم کا مسئلہ ضرور ہے لیکن انھوں نے ٹوئنٹی20 ٹیم کی کامیاب قیادت سمیت ایک عرصہ ملک کی خدمت کی،ایک باصلاحیت کرکٹر کے طور پر اب بھی وہ کئی سال تک پاکستان کیلیے پرفارم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔