پریذیڈنٹ ٹرافی اسٹار کرکٹرز کے بغیر 23 اکتوبر کو آغاز

مصباح، یونس اور سعید اجمل کی ٹیموں کو متبادل کپتان تلاش کرنا ہونگے


Sports Reporter October 09, 2013
سعید اجمل کے بغیر زرعی ترقیاتی بینک کو بھی متبادل قیادت کا انتظام کرنا ہوگا۔ فوٹو: فائل

پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون ٹورنامنٹ کا اسٹار کرکٹرز کے بغیر 23اکتوبر کو آغاز ہوگا۔

جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کیلیے متحدہ عرب امارات میں موجودکھلاڑی ڈومیسٹک مقابلوں کے ابتدائی مرحلے کا حصہ نہیں بن سکیں گے، سوئی سدرن گیس کو کپتان مصباح الحق کی خدمات حاصل نہیں ہونگی، یونس خان کی غیر موجودگی میں حبیب بینک میدان سنبھالے گی، سعید اجمل کے بغیر زرعی ترقیاتی بینک کو بھی متبادل قیادت کا انتظام کرنا ہوگا، اظہر علی، عدنان اکمل، جنید خان، ذوالفقار بابر، محمد عرفان، راحت علی، عمر امین، خرم منظور، عبدالرحمان اور اے ٹیم میں سے 15رکنی اسکواڈ کیلیے منتخب ہونے والے دیگر 3پلیئرز 27اکتوبر تک ٹیسٹ سیریز میں مصروف ہوں گے، دیگر 15نومبر تک جاری رہنے والے ون ڈے اور ٹوئنٹی 20میچز کی وجہ سے ہوم گرائونڈز پر ایکشن میں نظر نہیں آسکیں گے۔



تفصیلات کے مطابق پاکستان کے ڈومیسٹک سیزن کا آغاز 23 اکتوبر کو پریذیڈنٹ ٹرافی ٹورنامنٹ سے ہوگا، ایونٹ کے مقابلے 11 فروری تک ملک کے مختلف شہروں میں جاری رہیں گے، ان کے وینیوز اور ٹیموں کا اعلان کردیا گیا۔ قومی کرکٹ ٹیم کو متحدہ عرب امارات میں جنوبی افریقہ کا چیلنج درپیش ہے، ٹیسٹ سیریز کا آغاز 14 اکتوبر کو ہوگا، دوسرے پانچ روزہ میچ کا اختتام 27اکتوبر کو ہونا ہے، یوں قائد اعظم ٹرافی کے ابتدائی مرحلے میں 3 ٹیموں کو کپتانوں کی خدمات حاصل نہیں ہونگی۔

سوئی سدرن گیس مصباح الحق ، حبیب بینک یونس خان، زرعی ترقیاتی بینک ٹیم سعید اجمل کے بجائے متبادل قیادت کے ساتھ میدان میں اترے گی، سوئی گیس ٹیم اظہر علی اور عدنان اکمل کے بغیر کھیلنے پر مجبور ہوگی، واپڈا جنید خان، ذوالفقار بابر،کے آر ایل محمد عرفان، راحت علی، پورٹ قاسم اتھارٹی کی ٹیم عمر امین اور خرم منظور کی وطن واپسی کا انتظار کرے گی، اے ٹیم میں سے 15رکنی اسکواڈ کیلیے منتخب ہونے والے دیگر 3پلیئرز بھی ٹیسٹ سیریز میں مصروف ہوں گے، چند دیگر 15نومبر تک شیڈول ون ڈے اور ٹوئنٹی 20میچز کی وجہ سے یو اے ای کا رخ کرتے ہوئے ہوم گرائونڈز پر ایکشن میں نظر نہیں آسکیں گے۔یاد رہے کہ اس بار ڈومیسٹک سیزن میں پریذیڈنٹ ون ڈے کپ، قائد اعظم ٹرافی اور ون ڈے کپ کے مقابلے بھی ساتھ جاری رہیں گے۔