لاپتہ افراد کی بازیابی یقینی بنائی جائے

2009 سے اب تک 1300 لاپتہ بلوچوں اور 450 سیاسی کارکنوں کی مسخ شدہ لاشوں کا مکمل بائیوڈیٹا جمع کر لیا ہے


Editorial August 31, 2012
پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق پشاور اور سول سوسائٹی کے نمایندوں نےحکومت سے مطالبہ کیا کہ گمشدہ افراد کی بازیابی کا مسئلہ فی الفور اور ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ فوٹو: فائل

KARACHI: دنیا بھر میں جمعرات کو لاپتہ افراد کا عالمی دن ایسے حالات میں منایا گیا کہ پاکستان میں متعدد افراد لاپتہ تھے جن کی بازیابی کا کوئی طریقہ' کوئی بندوبست اب تک سامنے نہیں آیا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے واکس کا اہتمام کیا گیا اور سیمینار منعقد کیے گئے جن کا مقصد افراد کے لاپتہ ہونے سے پیدا ہونے والے انسانی' معاشرتی اور معاشی المیوں کو اجاگر کرتے ہوئے افراد کی بلاوجہ گمشدگی کا سلسلے بند کرنے کی ضرورت پر زور دینا تھا کیونکہ اس حقیقت سے کسی طور انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جب بھی کوئی فرد لاپتہ ہوتا ہے یا کر دیا جاتا ہے تو یہ محض ایک فرد کی گمشدگی نہیں ہوتی بلکہ ایک پورے خاندان کو ایک تکلیف دہ صورتحال میں گھسیٹ لیا جاتا ہے کیونکہ افراد خانہ کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ ان کا عزیز کہاں اور کس حالت میں ہے اور یہ کہ اگر لاپتہ ہونے والا اپنے خاندان کا واحد کفیل ہے تو اس صورت میں ان کی گھریلو ضروریات کیسے پوری ہوں گی۔

اسی لیے پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق پشاور اور سول سوسائٹی کے نمایندوں نے پشاور پریس کلب کے سامنے واک کا اہتمام کیا جب کہ واک کے شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گمشدہ افراد کی بازیابی کا مسئلہ فی الفور اور ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ بلوچستان کے لاپتہ افراد کی بازیابی کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ کے چیئرمین نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 2009 سے اب تک 1300 لاپتہ بلوچوں اور 450 سیاسی کارکنوں کی مسخ شدہ لاشوں کا مکمل بائیوڈیٹا جمع کر لیا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ سبھی لاپتہ افراد کی بازیابی کا بندوبست کیا جائے اور اگر بعض اداروں کو کسی وجہ سے کچھ افراد کو حراست میں لینا پڑتا ہے تو ان کو پابند کیا جائے کہ وہ یہ اقدام قانونی حدود کے اندر رہ کر کریں تاکہ افراد کے لاپتہ ہونے سے جنم لینے والے انسانی المیوں اور سامنے آنے والے سماجی مسائل سے بچا جا سکے۔