بجلی کی طویل بندش کیخلاف شاہراہ فیصل پر دھرنا شہر میں کئی گھنٹے ٹریفک جام

بجلی کے ستائے مشتعل مکینوں کے احتجاج سے شارع فیصل،راشد منہاس روڈ،کارساز، ملیر کی شاہراہوں پر بدترین ٹریفک جام


Staff Reporter October 13, 2013
غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف شاہراہ فیصل پر احتجاج کے سبب ٹریفک جام میں گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں(فوٹو ایکسپریس)

ISLAMABAD: شاہ فیصل کالونی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف مشتعل علاقہ مکینوں نے احتجاج کرتے ہوئے شارع فیصل پر دھرنا دیکر 4گھنٹے سے زائد ٹریفک معطل رکھا۔

جس سے شارع فیصل، راشد منہاس روڈ، کارساز، ملیر اور اس کے اطراف کی شاہراہوں پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا اورگاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگ گئیں اور شہری اپنی گاڑیوں میں محصور ہوکر رہ گئے،ٹریفک جام میں تدفین کے لیے جانے والی بس بھی پھنس گئی اور جنازہ بس سے اتار کر پیدل لے جایاگیا، تفصیلات کے مطابق شاہ فیصل کالونی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں بجلی کی طویل غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور پانی کی عدم فراہمی کے خلاف علاقہ مکین بینر اور پلے کارڈ اٹھائے شدید احتجاج کرتے ہوئے شاہراہ فیصل پر نکل آئے اور ناتھا خان پل کے قریب ٹریفک بلاک کردی اس موقع پر مشتعل افراد نے سڑک پر بھی پتھراؤ کیا جس سے متعدد گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

ہنگامہ آرائی کے بعد پولیس نے مشتعل مظاہرین پر لاٹھی چارج کرکے انھیں منتشر کردیا، تاہم ہزاروں متاثرہ مکین چند منٹ بعد دوبارہ شارع فیصل پر جمع ہوگئے اور شدید احتجاج اور نعرے بازی کرتے ہوئے شارع فیصل پر دھرنا دیا احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے ساتھ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے ان کی زندگی اجیرن بنادی ہے جس کے باعث ان کے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہیں بجلی 24 گھنٹے میں صرف 4 سے 5 گھنٹے بمشکل آتی ہے جس سے پانی کی قلت کا بھی سامنا کرنا ہے، احتجاجی مظاہرے سے شارع فیصل ، راشد منہاس روڈ ،کار ساز روڈ، ملیر ، نیشنل ہائی وے اوراس سے ملحقہ علاقوں میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا اور شاہراہوں پر گاڑیوں کی میلوں لمبی طویل قطاریں لگ گئیں شہری اپنی گاڑیوں میں محصور ہوکر رہ گئے۔



جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سوار مسافر جن میں خواتین اور بچے شامل تھے پیدل ہی منزل کی جانب چل پڑے جبکہ دیگر گاڑیوں میں سوار شہریوں کو انتہائی دقت اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، 4گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے احتجاج سے بدترین ٹریفک جام میں تدفین کے لیے جانے والی بس بھی پھنس گئی اور جنازہ بس سے اتار کر کچھ فاصلے تک پیدل لے جایا گیا،ٹریفک جام کے باعث ایئر پورٹ آنے اور جانے والے مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ٹریفک جام میں ایمبولینسیں بھی پھنسی رہیں اور اس میں سوار مریضوں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔

جبکہ قربانی کے جانور گھروں پر لے جانے والی گاڑیاں بھی ٹریفک جام میں پھنس کر رہ گئیں، ٹریفک جام ہونے سے کئی گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں میں ایندھن ختم ہوگیا اور مالکان دھکے لگاتے ہوئے اپنی گاڑیاں سڑک کے کنارے لگاتے ہوئے دکھائی دیئے4گھنٹے تک جاری رہنے والے احتجاج سے شہر بھر کا ٹریفک نظام درہم برہم ہوگیا اور منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوا چار گھنٹے بعد ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی اقبال محمد علی ناتھا خان پہنچے جنھوں نے علاقہ مکینوں سے مذاکرات کیے اور کے ای ایس سی انتظامیہ سے گفتگو کے بعد مظاہرین کو یقین دہانی کرائی جس پر علاقہ مکین منتشر ہو گئے اور ٹریفک بحال کردیا گیا، بے ہنگم ٹریفک کی روانی میں کئی گھنٹے لگ گئے اور شہری اپنے منزل مقصود تک پہنچے پر کامیاب ہو گئے۔