ذیابیطس سے متعلق شعور سے قیمتی جانوں کو بچایا جا سکتا ہے ڈینش سفیر

نگہداشت سے کئی جانوں کوبچایا جاسکتا ہے، ذیابیطس کے مرض کی معاشرے میں آگاہی اہم ہے،ڈنمارک سفیر


Staff Reporter October 13, 2013
پاکستان میں7ملین افراد ذیابیطس کا شکار ہیں۔

ڈنمارک کے سفیر جس پر ایم سورنسن نے کہا ہے کہ ذیابیطس کا مرض پاکستان میں خاموش قاتل کہلاتا ہے۔

پاکستان میں7 ملین لوگ ذیابیطس کا شکار ہیں اوردنیا میں آبادی کے لحاظ سے ذیابیطس کے شکار ممالک میں اس کا ساتواں نمبر ہے، ابھی تک ذیابیطس کا کوئی علاج دریافت نہیں ہوسکا لیکن مناسب نگہداشت کے ذریعے کئی قیمتی جانوںکوبچایاجا سکتا ہے،اس سلسلے میں مرض کے متعلق شعورکی آگاہی نہایت اہم کردار ادا کر سکتی ہے، وہ ہفتہ کو انڈس اسپتال کراچی کے دورہ کے موقع پر ڈاکٹروں، محققین اورمریضوں سے ملاقات اور ڈنمارک کی فارما کمپنی کے زیراہتمام سیمینار کے دوران گفتگو کررہے تھے۔

ڈنمارک کے سفیر سورنسن نے کہا کہ اگر لوگوں کو علاج کی مناسب سہولت اور دوائیں میسر ہوں تو وہ ایک صحت مند زندگی گزارنے کے قابل ہو سکتے ہیں اور مرض کے پیچیدہ ہونے کے خطرات بھی کم ہو جاتے ہیں، پاکستان میں بہت سے افراد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں اور یہ بدقسمتی سے احتیاط اور علاج کے متعلق مناسب آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔



غریب اوردیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو آگاہی اور تعلیم کی زیادہ ضرورت ہے کہ کیسے ان کا معیار زندگی بہتر ہو سکتا ہے، فارما کمپنی کے جنرل منیجر رانا ظفر نے کہا کہ جتنا ذیابیطس کے علاج کی اہمیت ہے اتنی ہی اس مرض کے متعلق آگاہی کی ضرور ت ہے، نووانورڈسک باقاعدگی سے عام لوگوں اور ذیابیطس کے مریضوں میں آگاہی کے فروغ کیلیے سیمینار اور مختلف پروگراموں کا انعقاد کرتی رہتی ہے، اس کے علاوہ نووانورڈسک کی طرف سے انڈس اسپتال میں ذیابیطس کے مریضوں کیلیے ٹیسٹ، مرض کے علاج اور آگاہی کے متعلق کیمپ کا انعقاد بھی کیا گیا، ڈنمارک کے سفیر نے انڈس اسپتال اور نوواڈسک کے باہمی تعاون سے ذیابیطس کے متعلق شعور کے فروغ کو سراہا آخر میں انھوں نے عام آدمی کے معیار زندگی کو بلند کرنے اور ذیابیطس کے متعلق شعور کے فروغ کیلیے مختلف اداروںسے ملکر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔