کراچی پولیس کی سرکاری کالج اساتذہ پر چڑھائی درجنوں گرفتار

پولیس اور اساتذہ کے مابین ہونے والی جھڑپ میں درجنوں افراد اور پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے


ویب ڈیسک November 06, 2019
پولیس نے درجنوں اساتذہ کو موبائلوں کے ذریعے قریبی تھانوں میں منتقل کر دیا ۔ فوٹو : پی پی آئی

سندھ کے سرکاری کالجز کے اساتذہ کو وزیراعلیٰ ہاؤس جانے سے روکنے کے لئے پولیس نے چڑھائی کردی۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق سندھ کے سرکاری کالجز کے اساتذہ کراچی پریس کلب پر جمع ہوئے اور انہوں نے احتجاج شروع کردیا اور 4 گھنٹے سے سٹرکیں بلاک کی ہوئی تھیں، احتجاج کے باعث میٹروپول کے اطراف، شارع فیصل، فاطمہ جناح روڈ سمیت ملحقہ شاہراہوں پر شدید ٹریفک جام رہا اور عوام پیدل چلنے پر مجبور ہوگئے۔

احتجاجی اساتذہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت ٹائم پے اسکیل منظور کرے اور کئی سالوں سے ترقیوں کا عمل التوا کا شکار ہے اساتذہ کو میرٹ پر ترقیاں دی جائیں۔ سندھ پروفیسرز لیکچرار ایسوسی ایشن کے پروفیسر منصور انور نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وزیراعلٰی سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات کرائی جائے، اساتذہ ریڈزون میں بھی پرامن انداز میں جائیں گے۔

اساتذہ کے ایک وفد کی صوبائی وزیر اسماعیل راہو سے ملاقات کرائی گئی تاہم مذاکرات ناکام ہوگئے اور احتجاجی اساتذہ نے کراچی پریس کلب سے وزیر اعلی ہاؤس کا رخ کرلیا، جس پر پولیس نے گاڑیاں کھڑی کرکے احتجاجی اساتذہ کا راستہ روک لیا، احتجاجی اساتذہ کو منتشر کرنے کے لئے واٹر کینن بھی طلب کرلئے گئے اور جب احتجاجی اساتذہ سی ایم ہاؤس کے قریب پہنچے تو پولیس اور مظاہرین میں ہاتھا پائی شروع ہوگئی۔

احتجاجی اساتذہ اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب موجود پولیس کے مابین شدید جھڑپ ہوئی اور اس دوران کئی اساتذہ اور پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے، حالات پر قابو پانے کے لئے پولیس کی مزید نفری طلب کرلی گئی اور پولیس نے درجنوں اساتذہ کو موبائلوں کے ذریعے قریبی تھانوں میں منتقل کر دیا۔